بھارت میں ایک شخص نے 3000 ہزار ڈالر خرچ کرکے بیوی کا 30 کلو گرام وزنی مجسمہ تیار کروالیا ۔ جسے تیار کروانے میں تقریبا 6 ماہ کا عرصہ لگا ۔
بھارتی میڈیا کے مطابق تپاس سندیلیا ( Tapas Sandilya) نامی شخص ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہے جس کا تعلق ہندوستان کے مغربی بنگال سے ہے ۔ سندیلیا کی بیوی 2021 میں کوویڈ 19 کی جان لیوا وبا کے دوران انتقال کر گئی تھی ۔ وہ خود آئیسولیشن میں ہونے کے باعث بیوی کے آخری وقت میں اس سے نہ مل سکا ۔
تاہم بیوی کی آخری خواہش پوری کرنے کے لیے وہ ایک ایسے فنکار کی تلاش میں نکل پڑا جو مٹی سے اس کی بیوی کا زندہ نماں مجسمہ بنا سکے ۔
فنکار ملنے کے بعد ہی فوری اس پر کام شروع کردیا گیا ۔ تپاس سندیلیا نے فنکار سے اس بات کی ضمانت لی کہ ماڈل ان کی پسند کے مطابق ہونا چاہیے ۔بلاآخر مجسمہ ساز نے 30 کلو وزنی ماڈل بنا دیا ۔
مجسمہ ویسی ہی ریشمی ساڑھی میں ملبوس دکھائی دیا جسے عورت نے اپنے بیٹے کی شادی میں پہنا تھا ۔ مجسمہ کو گھر میں عورت کی پسندیدہ جگہ جھولے پر بٹھایا گیا تھا ۔
تپاس سندیلیا کی جانب سے یہ انکشاف سامنے آیا کہ وہ اور ان کی بیوی نے ایک بار مایا پور کے ایک مندر کا دورہ کیا تھا جس میں ایک مجسمہ بے حد پسند آنے پر اس کی بیوی نے اپنی آخری خواہش اسی طرح کے مجسمے کی ظاہر کی تھی کہ اس کے مرنے پر ایسا مجسمہ تیار کروایا جائے ۔
تپاس کا خیال تھا کہ جب ہم کسی کی موت کے بعد فریم شدہ تصویریں گھر میں رکھ سکتے ہیں تو مجسمہ کیوں نہیں ؟؟۔









