بھارتی ریاست آسام کے ضلع کریم گنج کی جیل میں قید کچھ قیدیوں کی جانب سے غیر معینہ مدت تک بھوک ہڑتال کا اعلان کیا گیا لیکن طبعیت خراب ہونے پر انہیں اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ بھوک ہڑتال کی وجہ سے قیدیوں کے جسم میں پانی کی کمی ہوئی اور دیگر طبی مسائل پیدا ہوئے، طبیعت خراب ہونے پر قیدیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
اس موقع پر اسپتال انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ طبعیت خرابی پر قیدیوں کو اسپتال لایا گیا تاہم صحت میں بہتری آنے پر انہیں ڈسچارج کردیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جیل میں 100 سے زائد افراد منشیات کے کیس میں بند ہیں اور ان کی جانب سے ضمانت کے حصول کے لیے غیر معینہ مدت تک بھوک ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق قیدیوں نے گوہاٹی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو خط بھی لکھا اور الزام عائد کیا کہ انہیں مقدمے کی سماعت کے دوران اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا جا رہا۔
قیدیوں نے الزام لگایا کہ جیل انتظامیہ کا سلوک غیر مناسب ہے، 170 قیدیوں کے لیے بنائے گئے کمروں میں 500 قیدیوں کو رکھا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پورے کریم گنج ضلع سے 224 قیدیوں کو منشیات کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جو کئی سالوں سے ضمانت کے لیے کوششیں کر رہے ہیں تاہم عدالت کی جانب سے ان کی ضمانت کو کئی بار مسترد کیا جا چکا ہے۔









