بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بھار تی ایجنسی نے سرینگر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کا دفتر باضابطہ طور ضبط کرلیا

سرینگر،اسلام آباد(ممتاز نیوز )بھارتی دارلحکومت دہلی کی ایک عدالت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے دارلحکومت سرینگر کے راج باغ میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے صدر دفتر کو ضبط کرنے کے حکم کے ایک دن بعد اتوار کو بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کے اہلکاروںنے حریت دفتر کو باضابطہ طورپرضبط کرلیا۔ ایک سرکاری عہدیدارنے سرینگر میں صحافیوں کو بتایاکہ این آئی اے کی ٹیم راجباغ پہنچی اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے دفتر کو سیل کردیا۔قبل ازیں ہفتے کے روز نئی دہلی کی ایک عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج شیلیندر ملک نے غیر منقولہ جائیداد یعنی کل جماعتی حریت کانفرنس کے دفتر کی عمارت کو ضبط کرنے کا حکم دیاتھا۔عدالت نے کہا تھا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا قانون 1967کسی بھی طرح سے جائیداد کو ضبط کرنے کے عدالتی اختیارات میں رکاوٹ نہیں بنتا ۔تاہم عدالت نے کہا کہ ضبطی کا یہ مطلب نہیں کہ اس پراپرٹی کے بارے میں مقدمے سے پہلے کوئی فیصلہ کیاگیاہے۔این آئی اے نے راج باغ سرینگر میں واقع کل جماعتی حریت کانفرنس کے دفتر کی عمارت کو ضبط کرانے کے لئے عدالت میں ایک درخواست دائر کی تھی ۔ علاوہ ازیں کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادجموں وکشمیر شاخ کے کنوینئر محمود احمد ساغر نے سرینگر میں حریت کانفرنس کے دفتر کو سیل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات کشمیریوں کے جمہوری حقوق پر ایک اور حملہ ہے ، اسلام آباد سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کشمیریوں کی ایک نمائندہ سیاسی فورم ہے جو پرامن طریقے سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے جدوجہد کررہی ہے ،بھارت ایک طرف اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا جمہور ی ملک ہونے کا دعوی کررہا ہے دوسری طرف اس نے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کررکھے ہیں ،حریت کانفرنس کی اکثر قیادت کو یا تو جیلوں میں نظربند کیا گیا ہے یا قتل کیا گیا تاکہ کشمیری عواماپنی حقیقی قیادت سے محروم رہ سکے ،محمو د احمد ساغر نے کہا کہ بھارت کی مودی سرکار حریت کانفرنس سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ اب اس نے حریت کانفرنس کے صدر دفتر کو بھی اپنی کینگر و عدالت کے فیصلے کو استعمال میں لاتے ہوئے سیل کردیا ہے انہوں نے کہاکہ بھارت اس حقیقت کو جھٹلانہیں سکتا کہ کشمیراقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ایک تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے اور ایسے اقدامات کشمیریوںکو اپنی جائز جدوجہد سے دستبردار نہیں کراسکتے ۔انہوں نے کہاکہ اس سے قبل قابض انتظامیہ نے سرینگر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے مرکزی دفتر سے بورڈ بھی اتار د یاتھااوراب حریت کے مرکزی دفتر کو سیل کردیا گیا جو جمہوری اصولوں کے بالکل منافی ہے،انہوں نے عالمی برادری خاصکر اقوام متحدہ پر زوردیا کہ وہ بھارت کے ان غیر جمہوری اور غیرقانونی اقدامات کا نوٹس لیکر کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ کنوینئر حریت کانفرنس نے کہاکہ کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں اور حریت کانفرنس بھارت کے ان ظالمانہ اقدامات کا ڈٹ کر مقابلہ کرکے کشمیریوں کے حقوق کے لئے اپنی جدوجہد منزل کے حصول تک جاری رکھے گی ،دریں اثناءکل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ فورم کا دفتر عوامی ملکیت ہے اور یہ بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو اجاگر کرتا ہے جن کا وہ گزشتہ سات دہائیوں سے سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے بھارتی حکام کی جانب سے مقبوضہ علاقے میں صنعتیں لگانے کے نام پر زمین باہر کے لوگوں کے حوالے کرنے کی مہم پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام جموں و کشمیر کے لوگوں کو مزید بے اختیار بنائے گا۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 35Aکی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیرکے عوام پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں جس کے تحت بھارتی حکومت نے حکم جاری کیا کہ کوئی بھی بھارتی شہری علاقے میں غیر زرعی زمین خرید سکتا ہے اور اس کے بعد نئے قوانین نافذ کردیے جن کے تحت کسی بھی زرعی زمین کی غیر زرعی قراردیا جاسکتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ یہ سب مقبوضہ جموں وکشمیرمیں غیر کشمیریوں کی آباد کاری کو تیز کرنے اور انہیںسہولیات فراہم کرنے کے لئے کیاگیا تاکہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جا سکے جبکہ لوگوں کو بنیادی ضروریات کی کشمکش میں الجھا کر رکھاگیا۔انہوں نے کہاکہ کل جماعتی حریت کانفرنس اس ذہنیت کی مذمت کرتی ہے۔ترجمان نے کہاکہ یہ کارروائیاں صرف ماحول کومزید خراب کریں گی کیونکہ کشمیر ی عوام میں عدم تحفظ اور مایوسی کا احساس بڑھتا جارہاہے اور وہ فطری طور پر ردعمل ظاہر کریں گے۔انہوں نے بھارت اور پاکستان دونوں حکومتوں پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور تنازعہ کشمیر کو حل کرکے خطے میں حقیقی امن کو موقع دیں۔ ترجمان نے کہا کہ ایک بار جب یہ تنازعہ حل ہو جائے گا تو خطے میں پائیدار امن قائم ہو گا ۔۔