لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ سننے میں آ رہا ہے پرویز الٰہی تاریخ دہرانا چاہا رہے ہیں، آج پرویز الٰہی نے اپنی نگرانی میں اسمبلی میں توڑ پھوڑ کی، شیشے تڑوائے، اس بہانے سے پرویز الٰہی 30 سے 40 ممبران کو نکالنا چاہتے ہیں، اگراسپیکر ووٹ ڈالنے کی راہ میں رکاوٹ ڈالے توعدالت عظمیٰ کو نوٹس لینا چاہیے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ آئین و قانون کی حکمرانی کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے، کبھی کہا جاتا ہے نگراں حکومت بن گئی ہے، کبھی کوئی اور نوٹیفکیشن آجاتا ہے، ایوان صدر آرڈیننس فیکٹری بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر نے آئین و قانون کے خلاف رولنگ دی کیونکہ اجلاس صرف لیڈر آف دی ہاؤس کے انتخاب کیلئے بلوایا گیا تھا، اسپیکر ڈائس سے تصدیق کنندگان کے نام تک لئے گئے۔صوبہ پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے امیدوار حمزہ شہباز نے واضح طور پر کہا کہ مجھے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کا کوئی شوق نہیں ہے اور یہ کہتے ہیں کہ بیرونی سازش ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کل پنجاب اسمبلی میں عددی اکثریت کے لحاظ سے ہمارا نمبر 200 تھا، پھر ڈائس پر کھڑے لوگوں کی طرف سے اشارے کیے گئے، ان اشاروں کے بعد 6 منٹ کے اندر اندر اجلاس ملتوی کر دیا گیا، سننے میں آ رہا ہے کہ پرویز الٰہی تاریخ دہرانا چاہا رہے ہیں۔
سپیکر ووٹ ڈالنے میں رکاوٹ ڈالے توسپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہیے، حمزہ شہباز








