کابل (ویب ڈیسک) قطر کے وزیر خارجہ کے سفیر نے افغان دارالحکومت کابل کا دورہ کیا اور طالبان انتظامیہ کے قائم مقام وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔یہ دورہ طالبان انتظامیہ کی جانب سے خواتین کی تعلیم اور فلاحی تنظیموں (این جی اوز) کے کام پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد ہوا ہے جسے قطر نے گہری تشویش کا باعث قرار دیا تھا۔
رائٹرز کے حوالے سے ڈان نیوز نے لکھا کہ افغان وزارت خارجہ کے ایک بیان میں اس پیش رفت کی تصدیق کی گئی ہے۔ ترجمان افغان امور خارجہ عبدالقہار بلخی کے مطابق قطر کے وزیر خارجہ کے خصوصی سفیر مطلق بن ماجد القحطانی نے کابل میں قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقاتوں میں شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین نے سیاسی ہم آہنگی، تعلقات کی مضبوطی اور امداد کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔
Today, the Special Envoy of the Foreign Minister of the State of Qatar, Dr. Mutlaq bin Majid Al-Qahtani, and accompanied delegation called on the Minister of Foreign Affairs Mawlawi Amir Khan Muttaqi at Storay Palace. pic.twitter.com/aDMpYKyvFR
— Abdul Qahar Balkhi (@QaharBalkhi) February 5, 2023
واضح رہے کہ کسی بھی بیرونی ملک نے طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تاحال تسلیم نہیں کیا، تاہم چین اور پاکستان دونوں نے گزشتہ سال اپنے وزرائے خارجہ افغانستان بھیجے تھے اور اقوام متحدہ کے نائب خصوصی نمائندے نے حال ہی میں خواتین کے حقوق اور امداد کے حوالے سے بات چیت کے لیے دورہ کیا تھا۔
2021 میں افغانستان کا اقتدار سنبھالنے سے قبل لگ بھگ 2012 سے قطر میں طالبان کا سیاسی دفتر قائم رہا۔









