موسمیات اور زلزلے سے متعلق ریسرچ کرنے والے ایک ماہر نے سوشل میڈیا پر 3 فروری کو ہی پیشن گوئی کردی تھی کہ ترکیہ اور شام کسی بھی وقت تباہ کن زلزلے کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔
ترکیہ اور شام میں 7.8 شدت کے تباہ کن اور ہلاکت خیز زلزلے کے جھٹکوں میں مجموعی طور پر 2 ہزار 300 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے جب کہ تاحال دونوں ممالک میں عمارتوں کے ملبے سے لاشیں ملنے کا سلسلہ جا ری ہے۔
کہا جاتا ہے کہ بارش اور طوفان سے تو پیشگی آگاہ کیا جا سکتا ہے لیکن زلزلے کے بارے میں پیشن گوئی کرنا تقریباً ناممکن ہے لیکن حیران کن طور پر سوشل میڈیا پر 3 روز قبل کی گئی زلزلے کی پیشن گوئی آج درست ثابت ہوگئی۔
Sooner or later there will be a ~M 7.5 #earthquake in this region (South-Central Turkey, Jordan, Syria, Lebanon). #deprem pic.twitter.com/6CcSnjJmCV
— Frank Hoogerbeets (@hogrbe) February 3, 2023
سوشل میڈیا پر ایک ٹوئٹ وائرل ہورہی ہے۔ یہ ٹوئٹ نیدرلینڈ سے تعلق رکھنے والے محقق فرینک ہوگر بیٹس نے 3 فروری کو کی تھی جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جلد یا بدیر ترکیہ، شام، لبنان اور اردن میں زلزلہ آسکتا ہے۔
فرینک ہوگر بیٹس نے تین روز قبل کی گئی اپنی اپنی ٹوئٹ میں یہ بھی بتایا تھا کہ زلزلے کی شدت 7 اعشاریہ 5 تک ہوسکتی ہے یعنی جانی و مالی نقصان کے اعتبار سے یہ کافی خطرناک زلزلہ ثابت ہوگا۔
یہی نہیں بلکہ فرینک ہوگر بیٹس نے اپنی ریسرچ ایجنسی کی ٹوئٹ بھی پیش کی جس میں پہلے زلزلے کے بعد ایک اور بڑے زلزلے کی پیشن گوئی کی گئی تھی اور دونوں ہی درست ثابت ہوئیں۔
#earthquake M 6.7 – CENTRAL TURKEY – 2023-02-06 01:28:18 UTC
This is the strongest aftershock so far. Aftershocks will continue in the region for some time, mostly 4-5 magnitude, but a stronger tremor is possible. pic.twitter.com/y7UiRhaZMB
— SSGEOS (@ssgeos) February 6, 2023
ان ٹوئٹس کے عین مطابق زلزلے کے دو جھٹکے آئے پہلا ترکیہ اور شام کا تھا جس کی شدت 7.8 تھی جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں جب کہ اس کے بعد ایک اور زلزلہ ترکیہ کے علاقے البستان میں آیا جس کی شدت 7.5 ریکارڈ کی گئی جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
محقق فرینک ہوگر بیٹس نے ترکیہ اور شام کے زلزلے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
Larger seismic activity may occur at or after the lunar peak on 23 January, that follows on the sequence of planetary conjunctions from 19 to 22 January.https://t.co/l4GgtkkSZh
— SSGEOS (@ssgeos) January 22, 2023









