ترک صدر رجب طیب اردوان نے شدید زلزلے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے پیش نظر ملک بھر6روزہ سوگ کا اعلان کردیا ۔ اس حوالے سے انہوں نے نوٹیفکیشن شیئر کیا۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ تمام سرکاری عمارتوں پر 12فروری تک قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔
6 Şubat 2023 tarihinde ülkemizde meydana gelen depremler sebebiyle yedi gün süreyle millî yas ilan edilmiştir. Bütün yurtta ve dış temsilciliklerimizde 12 Şubat 2023 Pazar günü güneşin batışına kadar bayrağımız yarıya çekilecektir. pic.twitter.com/WsXvTpyr6y
— Recep Tayyip Erdoğan (@RTErdogan) February 6, 2023
واضح رہے تباہ کن 7.9 شدت کے زلزلے سے شام اور ترکیہ میں 2300 افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوگئے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق متاثرہ علاقوں میں زلزلے کے بعد۔ آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے۔ زلزلے سے اب تک کی اطلاعات کے مطابق شام میں 803 اور ترکیہ میں 1,498 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ حکام نے زلزلے سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت ریکڑ اسکیل پر 7.9 اورگہرائی 17.9 تھی۔ زلزلے کا مرکز ترکیہ کے جنوب مشرقی صوبے غازیان کے نردوی کے قریب تھا۔
زلزلے کے شدید جھٹکے اردن، شام ، قبرص اور یونان میں بھی محسوس کیے گئے۔ زلزلے سے ترکی اور شام سمیت دیگر ممالک میں متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ سیکڑوں افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے۔ زلزلے سے سڑکیں تباہ ہونے اور بارش کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔









