مشرقی کینیا میں مالندی کے علاقے کے قریب قبروں سے مبینہ طور پر فاقہ کشی سے مرنے والے مزید 26 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
کینیا حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی کینیا میں چرچ سے وابسطہ فرقہ تادم مرگ لوگوں کو فاقہ کشی کی ترغیب دے رہا تھا جس کے باعث مبینہ طور پر کئی افراد ہلاک ہوگئے اور انہیں قبروں میں دفن کیا گیا۔

حکام کے مطابق مبینہ طور پر فاقہ کشی سے مرنے والوں کی اب تک 47 لاشیں مل چکی ہیں، مزید ہلاک افراد کی تلاش کے لیے سائیٹ کی کھدائی کی جا رہی ہے، ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 58 قبروں کی کھدائی کی جاچکی ہے، ایک قبر میں سے ایک ہی خاندان کے 5 افرادکی لاشیں بھی ملیں۔
کینیا حکام کے مطابق پیتھالوجسٹ لاشوں کے ڈی این اے کے نمونے لیں گے اور اس بات کا تعین کرنے کے لیے ٹیسٹ کریں گے کہ آیا متاثرین کی موت بھوک سے ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق چرچ کا سربراہ گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہا ہوگیا جبکہ دیگر 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
کینیا حکام کے مطابق واقعےکی تحقیقات جاری ہیں ذمہ داروں کو کڑی سزا دی جائے گی۔








