بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

چاند پر شیشے کی پراسرار گولیاں دریافت

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)چاند کے زمین مخالف حصے پر بھیجی گئی خودکار گاڑی ’’یُوٹُو 2‘‘ نے چاند کی مٹی میں شیشے کی نیم شفاف گولیاں دریافت کی ہیں جو زمین پر پائی جانے والی کوارٹز قلموں سے مماثلت رکھتی ہیں۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

بتاتے چلیں کہ غیر معمولی حالات کے تحت عام ریت، کچھ اور معدنیات کے ساتھ مل کر شیشے میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

ماضی کی خلائی مہمات میں چاند پر شیشہ دریافت ہوچکا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ نیم شفاف گولیوں (کنچوں) جیسے شیشے کے ٹکڑے وہاں سے ملے ہیں۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

زمین کے گرد چاند کچھ اس انداز سے گردش کرتا ہے کہ اس کا ایک رُخ ہمیشہ زمین کی طرف اور دوسرا زمین سے مخالف سمت رہتا ہے جسے ہم زمین سے نہیں دیکھ سکتے۔ یہ کیفیت ’’ٹائیڈل لاک‘‘ کہلاتی ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

چاند کے زمین مخالف رُخ پر شیشے کی نیم شفاف گولیاں کس طرح بنی ہوں گی؟ اس سوال کا جواب فی الحال ماہرین کے پاس بھی نہیں۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

البتہ، اس بارے میں چینی ماہرین کا مفروضہ ہے کہ شاید آج سے تقریباً چار ارب سال پہلے، جب چاند ’’نوجوان‘‘ تھا تو یہاں مسلسل آتش فشاں بھی لاوا اگل رہے تھے جبکہ بڑی تعداد میں شہابِ ثاقب بھی چاند پر برس رہے تھے۔

غالباً یہ عمل اگلے کئی کروڑ سال تک جاری رہا اور شہابیوں نے چاند پر شیشے جیسے مادّے سے ٹکرا کر اپنی شدید گرمی اور دباؤ کی بناء پر یہ شیشے کی یہ نیم شفاف گولیاں بنا دیں۔

چین کا ’’یُوٹُو 2‘‘ روور 2019 میں چاند کے زمین مخالف حصے پر اُترا تھا جبکہ اسے صرف تین ماہ تک کام کرنے کےلیے بھیجا گیا تھا۔

تاہم یہ اب تک کام کررہا ہے اور چاند کے زمین مخالف حصے پر اُترنے والے اوّلین روور ہونے کے ساتھ ساتھ طویل ترین مدت تک کارآمد رہنے والی مشین کا اعزاز بھی حاصل کرچکا ہے۔

پچھلے مہینے ’’یُوٹُو 2‘‘ روور نے دریافت کیا تھا کہ چاند کے زمین مخالف حصے کی مٹی اگرچہ خشک ہے لیکن پھر بھی وہ کیچڑ جیسی چپچپی یعنی چپکنے والی خاصیت رکھتی ہے۔

ابھی یہ حیرت ختم نہ ہوئی تھی کہ اسی روور نے ایک نئی دریافت سے ہمیں مزید حیران کردیا ہے۔

سورج، نظامِ شمسی، زمین اور چاند وغیرہ کی ابتداء سے متعلق بہت کچھ جاننے کے باوجود آج بھی اس بارے میں بہت سی باتیں ہمارے لیے نامعلوم ہیں۔

چینی سائنسدانوں نے اس دریافت کا اعلان ریسرچ جرنل ’’سائنس بلیٹن‘‘ کے تازہ شمارے میں اپنے ایک مقالے (ریسرچ پیپر) کی صورت میں کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دریافت ابتدائی نوعیت کی ہے۔

’’یُوٹُو 2‘‘ چاند گاڑی کا سفر اب تک جاری ہے اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر چاند سے شیشے کی نیم شفاف گولیاں زیادہ تعداد و مقدار میں دریافت ہوئیں تو اس سے چینی ماہرین کے مفروضے کی تصدیق ہوگی۔

اس سب سے ہٹ کر، چاند کے زمین مخالف حصے پر مزید خودکار گاڑیاں (روورز) بھیجنے اور وہاں سے مٹی کے مزید نمونے جمع کرکے زمین پر لانے کی ضرورت بھی اس دریافت کی روشنی میں زیادہ محسوس کی جارہی ہے۔