بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

غیر ملکی مراسلہ پر عسکری قیادت کا اب بھی وہی موقف ہے ، اعلامیہ میں کیا کوئی سازش کا لفظ ہے؟پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کےاعلامیہ میں غیر ملکی مراسلہ کے بارے میں جو کہا گیا عسکری قیادت کا اب بھی وہی موقف ہے ، اعلامیہ میں کیا کوئی سازش کا لفظ ہے؟اسٹیبلشمنٹ کی طر ف سے سیاسی بحران کے حل کے لئے کوئی آپشن نہیں دیئے گئے تھےبلکہ پی ایم آفس کی طر ف سے آرمی چیف کوبیچ بچائو کرانے کے لئے کہا گیا تھا۔ بابر افتخار نے کہا کہ آرمی چیف نہ تو مدت میں توسیع طلب کررہے ہیں نہ کریں گے وہ اپنی مدت پوری کرکے ریٹائرڈ ہوجائیںگے ۔ بے بنیاد کردار کشی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں، پاک فوج کے خلاف منظم مہم چلائی جارہی ہے۔عوام اور سیاسی پارٹیوں سے درخواست ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں۔انہوںنے مزید کہا کہ پاکستان کی سرحدی صورتحال مستحکم ہے،بلوچستان میں د ہشت گردوں نے امن وامان کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی،آخری دہشت گرد کے خاتمے تک دہشت گردی کےخلاف جنگ جاری رہےگی۔پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی قسم کی صورتحال کے لیے مکمل تیارہیں،رواں سال کے پہلے 3 ماہ میں 270دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔پاک فوج کے 168افسران اور جوان اقوام متحدہ کے امن مشن میں جام شہادت نوش کرچکےہیں،97افسروں اور جوانوں نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں جام شہادت نوش کیا،عوام کی حمایت مسلح افواج کی طاقت کا منبع ہے،تعمیری تنقید مناسب ہے۔ پاک فوج نے خط کے معاملے پر اپنا موقف قومی سلامتی کمیٹی میں پیش کی،ہماری خفیہ ایجنسیاں تمام خطرات کے خلاف چوکنا ہیں۔ہماری ایجنسیاں اور ادارے بھرپور طریقے سے کام کررہے ہیں،خود دیکھ لیں قومی سلامتی کے اعلامیے میں سازش کا لفظ ہے یانہیں؟پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے،افواہوں کی بنیاد پر پاک فوج کی کردار کشی کسی طور قبول نہیں،تمام سیاسی قیادت نے ہر دور میں ایٹمی پروگرام کے لیے کردار ادا کیا،ہمارے ایٹمی پروگرام کو کوئی خطرہ نہیں،ایٹمی پروگرام کو سیاسی مباحثوں کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا،قوم کا مطالبہ تھا کہ پاک فوج کا سیاست میں عمل دخل نہیں ہونا چاہیے،اب اس کوعملی جامعہ پہنایاگیا ،پاک فوج اپنا آئینی اور قانونی کردار ادا کرتی ہے اور کرتی رہے گی،سیاسی جماعتوں کا مطالبہ تھا کہ پاک فوج کا سیاست میں عمل دخل نہیں ہونا چاہیے،اب اس کوعملی جامعہ پہنایاگیا ،پاک فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے،ایٹمی اثاثے کسی سیاسی قیادت سے منسلک نہیں،اسٹیبلشمنٹ نےگزشتہ حکومت کوکوئی آپشن نہیں دیاتھا۔