اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 20 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 3 کروڑ ڈالر کا معمولی اضافہ ہوا، جس کے بعد ملک کے مجموعی ذخائر رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں پہلی بار 10 ارب ڈالر سے زائد ہو گئے ہیں۔
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک نے بتایا کہ ہفتے کے دوران اس کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہو کر 4 ارب 46 کروڑ ڈالر ہو گئے۔
تاہم اسٹیٹ بینک کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے یقین دہانی کے باوجود تاحال فنڈز موصول نہیں ہوئے جبکہ پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے 1 ارب 10 کروڑ ڈالر قسط کا انتظار ہے حالانکہ عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے عائد سخت ترین شرائط پوری کر دی گئی ہیں۔
Total liquid foreign #reserves held by the country stood at US$ 10.02 billion as of April 20, 2023.
For details https://t.co/WpSgomnKT3 pic.twitter.com/rPr2dVh4Z9— SBP (@StateBank_Pak) April 27, 2023
مرکزی بینک کے پاس ذخائر میں حالیہ بہتری کے حوالے سے مالیاتی شعبے کے ذرائع نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک ذخائر کو بڑھانے کے لیے بینکوں سے ڈالر خرید رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے رپورٹ کیا کہ کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 56 کروڑ ڈالر موجود ہیں اور ہفتے کے دوران کل زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب 2 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہو گئے ہیں۔
اس سے قبل گزشتہ برس دسمبر 2022 میں ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب 84 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیے گئے تھے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ 14 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے میں 39 کروڑ 40 لاکھ ڈالر بڑھ گئے تھے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ حالیہ ہفتوں میں چین سے تین اقساط میں 1.3 ارب ڈالر کی آمد سے اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں بہتری نظر آرہی ہے۔









