اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی کابینہ کی تشکیل کے معاملے پر وزیر اعظم نے پی ڈی ایم جماعتوں کے سربراہان کو آج افطار پر بلا لیا ۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے افطار ڈنر وزیرا عظم ہاوس میں ہو گا جہاں وزیر اعظم پی ڈی ایم جماعتوں کے سربراہان کی حمایت پر شکریہ ادا کریں گے اور نئی کابینہ سے متعلق اتحادیوں سے مشاورت کےبعد حتمی شکل دی جائے گی، وفاقی کابینہ کے ناموں کا اعلان آج رات تک متوقع ہے۔دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی نے وفاقی کابینہ میں اپنے حصے کی وزارتیں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ، بلوچستان عوامی پارٹی اور بوچستان نیشنل پارٹی کو دینے کی تجویز دے دی ، سینئر صحافی نعیم اشرف بٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ وفاقی کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے گزشتہ رات 1 بجے تک مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات ہوئے ، ملاقات میں ن لیگ کے ایاز صادق ، سعدرفیق اور رانا ثناءاللہ اور پی پی کے یوسف رضا گیلانی ، شیری رحمان ، راجہ پرویز اور نوید قمر شریک ہوئے ۔ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے حصے کی وزارتیں ایم کیوایم ، بی اے پی اور بی این پی کو دینے کی تجویز دی ہے لیکن مسلم لیگ ن کے وفد کا اصرار تھا کہ پیپلزپارٹی وفاقی کابینہ میں شامل ہو ۔ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہا کہ ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی کے لیے جمعیت علماء اسلام ف کی شاہدہ اختر کے نام پر غور کیا گیا تاہم اگر جے یو آئی چاہے تو ڈپٹی اسپیکر کے لیے کوئی متبادل نام بھی تجویز کرسکتی ہے۔علاوہ ازیں اطلاعات یہ بھی ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے شہباز شریف حکومت کی وفاقی کابینہ میں شامل نہ ہونے کا اعلان کر دیا ، اس حوالے سے ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ حکومتی اتحاد میں شامل دیگر رہنماؤں سے حکومت کی تشکیل کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی ہے اور ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلے سے وزیر اعظم شہباز شریف کو آگاہ بھی کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کراچی اور صوبے کے دیگر علاقوں کی فلاح و بہبود کے لیے اتحادیوں کی جانب سے کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے جس کے تحت وفاقی کابینہ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا گیا۔
کابینہ کی تشکیل کا معاملہ ؛ وزیر اعظم نے پی ڈی ایم جماعتوں کے سربراہان کو آج افطار پر بلا لیا








