اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈاسمتھ آج کل پاکستان میں خوب سرخیوں میں ہیں جس کی وجہ لندن میں اُن کے گھر کے بعد احتجاج کا ہونا ہے ۔
عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کا کہنا تھا کہ میرے گھر کے باہر مظاہرے کیے جا رہے ہیں، ایسا لگ رہا ہے جیسے 90 کی دہائی کا لاہور ہے۔
اُنہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز بیانیے کا سامنا کررہی ہیں۔
جمائما کی جانب سے ٹوئٹر پر جب گھر کے باہر احتجاج کی اطلاع دی گئی تو جمائما کا نام پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر آگیا، اور پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے اس احتجاج کی مذمت کی۔
پاکستانیوں کے لاتعداد ٹوئٹس پر جمائما بھی کھل کر جواب دے رہی ہیں اور بار بار واضح کررہی ہیں کہ ان کا پاکستان کی سیاست، سابق شوہر عمران خان یا ان کی پارٹی تحریکِ انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
ایک پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ انہیں متعدد بار عمران خان کو کچھ چیزیں بتانے کا کہا جاتا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ وہ میرے سابق شوہر ہیں اور ان سے میرا اب کوئی تعلق نہیں ہے، نا ہی اُن کی جماعت پی ٹی آئی پر میرا کوئی اثر ہے۔
ماضی میں پاکستانی سیاست پر تبصرہ کرنے پر ’منافق‘ کا لقب پانے پر جمائما بھی خاموش نہ رہ سکیں اور سوال کِیا کہ کیا ماضی میں سیاسی رائے کا اظہار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مجھے نسل پرستانہ بدسلوکی کا نشانہ بنایا جائے اور کیا میرے گھر کا پتہ سوشل میڈیا پر شائع کیا جائے؟
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے بچے، جنہوں نے کبھی پاکستانی سیاست پر تبصرہ نہیں کیا انہیں بھی نشانہ بنایا جائے؟
Does expressing a political opinion in the past mean I should be targeted with racist abuse and have my home address published on social media? Does it mean my children- who have never commented on Pakistani politics should be targeted too?
— Jemima Goldsmith (@Jemima_Khan) April 15, 2022
جمائما کا کہنا تھا کہ ’انتہائی احترام کے ساتھ، میں اپنے سابق شوہر یا اپنے بھائی کے سیاسی اعمال یا بیانات کی ذمہ دار نہیں ہوں۔‘
واضح رہے کہ جمائما اور عمران خان کی شادی 1995 میں ہوئی تھی، ان کے 2 بیٹے سلیمان اور قاسم ہیں، جو اس وقت لندن میں زیر تعلیم ہیں اور اپنی والدہ جمائما کے ہمراہ رہتے ہیں۔









