قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان محمد ثقلین کا کہنا ہے کہ فیڈریشن کے فنڈز کا غلط استعمال کرنے والوں پر جرم ثابت ہو تو اولپمئین ہو یا صدر انہیں پھانسی پر لٹکائیں۔
نجی ٹی وی سےگفتگو کرتے ہوئے قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان محمد ثقلین نے کہا کہ فیڈریشن میں جب تک سزا اور جزا کا نظام نہیں ہوگا، کھیل ترقی نہیں کرسکتا، انہوں نے کہا کہ نیشنل گیمز کی اہمیت اپنی جگہ لیکن شوربے سے روٹی کھا کر ورلڈکپ جیسی فٹنس لانا مشکل ہوگا۔
سابق کپتان نے کہا کہ بھارت اپنی ہاکی ٹیم پر 3 ارب روپے خرچ کررہا ہے، ہمیں جو 20 کروڑ روپے ملتے ہیں وہ بھی کھلاڑیوں پر نہیں لگتے، اگر کسی نے حکومتی فنڈز کا غلط استعمال کیا ہے تو اس کو پکڑتے کیوں نہیں، چاہے وہ اولمپئن ہو یا صدر، کسی کو سخت ترین سزا دے کر مثال تو بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ کرپشن صرف ہاکی میں نہیں بلکہ ہر شعبے میں ہورہی ہے، جب تک سزا نہیں دیں گے تو چیزیں کیسے ٹھیک ہوں گی، ہم میں حلال اور حرام کی تمیز ہی نہیں رہی۔
محمد ثقلین نے کہا کہ ہاکی پلئیرز کے کروڑوں روپے کھائے گئے مگر کھلاڑی بچارے صرف شوربے والی مرغی کھارہے ہیں، ہم نیشنل گیمز میں ہاکی بات کرتے ہیں لیکن اس کے معیار اور انٹرنیشنل اسٹینڈر کی بات نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ جونیئر ایشیاکپ میں شرکت سے ہماری رینکنگ بہتر ہوگی، رولنٹ اولٹمنز کے آنے سے فرق پڑے گا، اگر کھلاڑی سخت محنت کریں تو سیمی فائنل تک ٹیم پہنچ سکتی ہے۔









