اسلا م آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی لاہور میں ایکس سروس مین سےچارگھنٹوں کی ملاقات میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات سامنے آگئیں۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کئی رپورٹس کے مطابق اس ملاقات میں صرف و صرف عمران خان اور ان کی حکومت کے خاتمے کا معاملہ ہی زیر بحث رہا ۔اس دوران آرمی چیف نے کھل کر سابق افسران کے سوالات کے جوابات دیئے ۔رپورٹس کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ ہم نے تو عمران خان حکومت کی کامیابی کے لئے ہر ممکن تعاون کیا، ضروری قانون سازی کے لئے بھی ان سے نہ صرف تعاون کیا بلکہ انہیں گائیڈ کرتے رہے کہ ملک کیسے چلانا ہے ؟انہوں نے کہاکہ عمران خان سولوفلائیٹ پر یقین رکھتے تھے اور ہمارے بہت سے مشوروں پر عمل نہیں کرتے تھے ،آرمی چیف کے مطابق عمران خان نے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر جس طرح کا رویہ اختیار کیا اس نے بھی ہمیں پریشان کیا۔آرمی چیف نے یہ بھی کہاکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی وزارت اعلیٰ کے حوالے سے عمران خان نے غلط انتخاب کیا ،علیم خان اور پرویز خٹک کو نظرانداز کرکے ایسے لوگوں کو وزیراعلیٰ بنایا گیا جن میں انتظامی صلاحتیں بالکل نہیں تھیں،جنرل باجوہ نے یہ بھی کہاکہ عام انتخابات زیادہ دورنہیں ہیں اور آئندہ الیکشن صاف و شفاف ہوں گے ،عوام جس کو چاہیں گے منتخب کریں ،آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اس وقت جو رپورٹس ہیں اس سے لگ رہا ہے کہ اگلے وزیراعظم عمران خان ہی ہوں گے جو اس وقت بہت مقبول ہیں اگر عمران خان الیکشن جیت جاتے ہیں تو میں یا فوج ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنیں گے،آرمی چیف نے کہاکہ عدالتیں ہمارے تابع نہیں ،وہ آزادانہ طور پر فیصلے کررہی ہیں،ایکس سروس میں نے میجر حارث پر تشدد کے معاملے پر شدید برہمی کا اظہار کیا جس پر آرمی چیف نے انہیں یقین دلایا کہ وہ اس حوالے سے کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوں گے اور ملزمان کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔
اگلے انتخابات جلدہوں گے ،عمران خان جیت گئے تو ہم رکاوٹ نہیں ہوں گے ،آرمی چیف کی ایکس سروس مین سے گفتگو








