آج کے ڈیجیٹل دور میں ہر دوسرا انسان گھنٹوں موبائل فون، کمپیوٹر اور دوسری اسکرینز میں سر جھکائے بیٹھا رہتا ہے۔ چاہے سوشل میڈیا استعمال کرنا ہو، کوئی کام کرنا ہو یا ویڈیوز دیکھنی ہوں، لوگ اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں۔ یہ عادت وقت کے ساتھ ساتھ ہماری ریڑھ کی ہڈی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اور اس سے صرف آنکھوں کی کمزوری یا تھکن ہی نہیں بلکہ زیادہ دیر تک سر جھکا کر موبائل یا لیپ ٹاپ (Mobile & Laptop)استعمال کرنے سے گردن اور کمر کے پٹھوں پر اضافی دباؤ پڑتا ہے، جس سے درد، اکڑاؤ اور دیگر مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق عام انسان کے سر کا وزن تقریباً 10 سے 12 پاؤنڈ ہوتا ہے اور جب ہم اسے مسلسل آگے کی طرف جھکاتے ہیں تو گردن کے پٹھوں اور اوپری کمر پر بہت زیادہ وزن پڑتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ دباؤ تکلیف، مستقل درد اور ایسے مسائل کا سبب بنتا ہے جہاں گردن اور کندھوں میں اکڑن پیدا ہو جاتی ہے۔
اس کے علاوہ غلط طریقے سے بیٹھنے یا جھکنے کی وجہ سے جسم کی پھرتی کم ہو سکتی ہے، توازن بگڑ سکتا ہے اور سر درد جیسی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں۔ ایسے افراد جو کئی گھنٹے ڈیسک پر کام کرتے ہیں، آن لائن میٹنگز کرتے ہیں یا بار بار لیپ ٹاپ اور موبائل استعمال کرتے ہیں، ان پر اس کا اثر زیادہ ہوسکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اس مسئلے کی عام علامات میں گردن اور کندھوں میں اکڑاؤ، پٹھوں کی تھکن، سر درد اور مسلسل درد شامل ہیں۔ بعض افراد میں درد ہاتھوں تک بھی پہنچ سکتا ہے، جبکہ ہاتھوں میں سن ہونا، سوئیاں چبھنے جیسا احساس یا کمزوری بھی محسوس ہوسکتی ہے۔
ایسی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ مسلسل مسئلہ بڑھنے کی صورت میں ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
اس نقصان سے بچنے کے لیے ماہرین کچھ آسان طریقے بتاتے ہیں جن پر عمل کر کے روزمرہ کی عادتوں کو بدلا جا سکتا ہے۔
لیپ ٹاپ پر کام کرتے وقت اسکرین کو آنکھ کے بالکل سامنے ہونا چاہیے تاکہ گردن کو بار بار نیچے جھکانا نہ پڑے، اس کے لیے لیپ ٹاپ اسٹینڈ اور الگ کی بورڈ یا ماؤس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:اداکارہ دیا مرزا نے 20 سال سے فلم کے سیٹ پر آئینہ کیوں نہیں دیکھا؟
اسی طرح موبائل فون کو بھی نیچے دیکھنے کے بجائے آنکھوں کے قریب لانا چاہیے تاکہ گردن پر کم سے کم بوجھ پڑے۔
آپ کو چاہیے کہ اپنے اٹھنے بیٹھنے کے انداز کو بہتر رکھیں اور جب بھی فون یا لیپ ٹاپ استعمال کریں تو کمر سیدھی اور کندھے پیچھے رکھیں تاکہ گردن آگے کی طرف نہ جھکے۔
اس کے علاوہ تھوڑی تھوڑی دیر پر وقفہ کریں، اپنے جسم اور گردن کے پٹھوں کو مضبوط کرنے والی ورزشیں کریں اور آرام دہ کرسیوں یا ڈیسک کا استعمال کریں۔
ہر 20 منٹ بعد 20 سیکنڈ کے لیے 20 فٹ دور کسی چیز کو دیکھنے کا اصول اپنانا بھی فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ اس سے آنکھوں کی تھکن کم ہوتی ہے اور گردن کو بھی آرام ملتا ہے۔
جسم کو متحرک رکھیں اور باقاعدگی سے ورزش یا یوگا کریں تاکہ جسم کی لچک بہتر رہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بار بار ہونے والے یا بڑھتے ہوئے درد کو معمول کی بات سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ضرورت پڑنے پر ماہر ڈاکٹر سے معائنہ کروانا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کم کرنا ہمیشہ ممکن نہیں، لیکن صحیح انداز میں استعمال کرکے ریڑھ کی ہڈی اور گردن کو نقصان سے بچایا جاسکتا ہے۔









