بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

چھوٹے کسانوں کو ہر ممکن معاونت دی جائے، وزیراعظم

لاہور: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی شعبے کی اصلاحات اور شعبے کی ترقی کیلئے حکومتی پالیسی اقدامات پر عملدرآمد کا جائزہ اجلاس ہوا، جس میں زرعی پیداوار، کسانوں کی سہولت، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور غذائی تحفظ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے سرٹیفائیڈ کمپنیوں کے ذریعے کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

وزیراعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر فصلوں کی پیداوار کے قومی سطح پر تخمینوں کیلئے جامع پلان مرتب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کیلئے زرعی تحقیق کے اداروں کو مزید فعال بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسان حکومت کی زرعی شعبے میں جدت اور اصلاحات سے بھرپور استفادہ کرسکیں۔ وزیراعظم نے گزشتہ برس چین سے زرعی تربیت حاصل کرکے واپس آنے والے طلبہ و طالبات کے تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ہدایت بھی کی۔

شہباز شریف نے رواں برس چین میں زرعی شعبے کی تربیت کیلئے جانے والے طلبہ و طالبات کے انتخاب میں میرٹ اور شفافیت کو اولین ترجیح دینے پر بھی زور دیا۔

اجلاس میں وزیراعظم نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر (این اے آر سی) کی اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے انہیں جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کو مزید فعال بنانے اور انہیں بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس کو وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے زرعی شعبے کی اصلاحات کیلئے اقدامات پر عملدرآمد میں پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم کو ملک میں گندم کی طلب، کاشت کے رقبے اور آئندہ فصل کی پیداوار کے تخمینے کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد قومی سطح پر فصلوں کے تخمینوں کیلئے جامع نظام مرتب کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پلان 2026-27 کے تحت ترجیحی اقدامات پر پیش رفت تیز کردی گئی ہے۔ منصوبے میں کسانوں کو مالی سہولت، زرعی مشینری کی فراہمی، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن، تحقیق و استعداد کار میں اضافہ اور غذائی تحفظ سمیت مختلف شعبوں پر توجہ دی جارہی ہے۔

اہم اقدامات میں کین گراور ری فنانسنگ، فصلوں کی انشورنس، الیکٹرانک ویئر ہاؤس رسید فنانسنگ، فارم مشینری فنانسنگ اور وزیراعظم نیشنل ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام شامل ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بھی ترجیح دی جارہی ہے۔ پاکستان ٹوبیکو بورڈ آٹومیشن پراجیکٹ، سپارکو کے ذریعے فصلوں کے جائزے کے پروگرام اور کیڑوں و پودوں کی شناخت کیلئے اے آئی پر مبنی ایپ سمیت مختلف اقدامات پر پیش رفت جاری ہے، جبکہ متعدد قلیل مدتی اقدامات پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے۔

ملکی برآمدات اور دیہی آمدن میں اضافے کیلئے آرگینک زراعت کے فروغ کے حوالے سے بھی اجلاس کو بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ بلوچستان میں کپاس اور کھجور سمیت منتخب زرعی کلسٹرز کو آرگینک پیداوار کے پائلٹ علاقوں کے طور پر ترقی دینے، قومی آرگینک پالیسی اور معیارات وضع کرنے، گروپ سرٹیفکیشن متعارف کرانے اور ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی نظام قائم کرنے پر کام تیزی سے جاری ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مقامی زرعی اجناس کی ویلیو چین، برآمدی استعداد اور کسانوں کی آمدن بڑھانے کیلئے ریسرچ، سرٹیفکیشن، اسٹوریج، پراسیسنگ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو مربوط بنانے کیلئے بھی اقدامات جاری ہیں۔

این اے آر سی کے نئے ماسٹر پلان کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اسے 7 ڈسٹرکٹس میں تقسیم کیا جارہا ہے۔

نئے ماسٹر پلان کے تحت پانچ سینٹرز آف ایکسیلینس، ریفرنس لیبارٹریاں، بائیو ریپازیٹری، نئے تحقیقی سینٹرز، نجی شعبے کیلئے تحقیقی پارک، بین الاقوامی تعاون کیلئے سینٹر، لیونگ لیبارٹری اور پبلک ڈسکوری پارک جیسی سہولیات قائم کی جائیں گی۔ وزیراعظم نے ماسٹر پلان کی منظوری دیتے ہوئے اسے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، اعظم نذیر تارڑ، رانا تنویر حسین اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت احمد عمیر نے شرکت کی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، مشیر وزیراعظم محمد علی، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق باجوہ اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

ا