اسلام آباد(طارق محمود سمیر) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ایک نئی مبینہ آڈیو لیک نے ان کے لئے مزید مسائل کھڑے کر دیئے ہیں اور ان کا اینٹی امریکہ بیانیہ
تو پہلے ہی کافی حد تک کمزور پڑ چکا ہے لیکن اس آڈیو لیک کے بعد یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ امریکہ اور عمران خان اب آہستہ آہستہ اسی طرح ایک ہی صفحے پر آرہے ہیں جس طرح ماضی میں پاکستان کی سابق اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان ایک ہی صفحے پر تھے اور بعد ازاں اختلافات اور دوریاں پیدا ہوئیں ، عمران خان کی حمایت میں امریکہ ، یورپ اور دیگر ممالک سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں حالانکہ خان صاحب نے خود 27 مارچ 2022 کو پریڈگرائونڈکے جلسے میںکاغذ لہرا کر یہ الزام عائدکیا تھا کہ امریکہ نے ان کے خلاف سازش کی ہے اور پی ڈی ایم نے امریکہ کے کہنے پر تحریک عدم اعتماد جمع کرائی، اسی عرصے میں عمران خان سابق آرمی چیف جنرل باجوہ سے بھی بہت ناراض تھے اور انہیں میر جعفر، میر صادق کہہ کر بھی مخاطب کیا اور دیگر بھی الزامات عائدکئے تاہم کچھ عرصہ گزرنے کے بعد امریکی سازش کا بیانیہ کمزور پڑنا شروع ہوا تو خان صاحب نے سابق آرمی چیف کو نشانے پر لئے رکھا اور دن میں ان پر تنقید کرتے اور رات کو ایوان صدر میں صدر علوی کے ذریعے خفیہ ملاقاتیںکرکے غیر معینہ مدت کے لئے آرمی چیف برقرار رکھنے کی پیشکشیں بھی کرتے رہے ۔خان صاحب کے بیانیے میں مزیدکمزوری اس وقت آئی جب انہوں نے اس سازش کا ایک مہرے کے طورپر پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ اور نجی چینل کے مالک محسن نقوی اورامریکہ میں مقیم سینئر صحافی اور سابق سفارتکار حسین حقانی پر بھی الزامات لگائے ۔حال ہی میں امریکی کانگریس کے 66ارکان نے امریکی وزیر خارجہ کو خط لکھ کر پاکستان میں تحریک انصاف کے خلاف کریک ڈائون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںکا معاملہ پاکستانی حکومت کے سامنے اٹھانے اور عمران خان کی مددکرنے کا مطالبہ کیا جبکہ زلمے خلیل زاد بھی کھل کر عمران خان کی حمایت کر چکے ہیں ۔امریکہ انسانی حقوق اور جمہوریت کا علمبردار ملک مانا جاتا ہے اور دنیا کی بڑی قوت ہے لیکن کیا امریکہ کے اندر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہیں ہوتیں ، بلیک کمیونٹی کالوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اس سے پوری دنیا آگاہ ہے ۔امریکہ نے افغانستان اور عراق میں جو مظالم کئے اس سے بھی پوری دنیا آگاہ ہے ، عمران خان صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ تاریخ میں جتنا بڑا کریک ڈائون اور مظالم تحریک انصاف کے خلاف ہو رہے ہیں ماضی میںکسی سیاسی جماعت کے ساتھ اتنا برا سلوک نہیں ہوا ۔ خان صاحب آپ شاید تاریخ سے آگاہ نہیں ہیں یا اس کا ذکر نہیں کرتے۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے مخالف ذوالفقار علی بھٹوکو پھانسی پر لٹکایا ، ایوب خان کے دور میں بلوچوںکے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ بھی ہماری تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ بلوچوںکی لاشوںکو ہیلی کاپٹر سے پھینکا جاتا تھا ، ضیا الحق کے دور میںسیاسی کارکنوں پر کوڑے برسائے گئے، جیلیں سیاسی کارکنوں سے بھری رہیں ، میڈیا پر جو پابندیاں تھیں وہ آج نہیں ہیں ، اخبارات چھپنے سے پہلے سرکاری افسران کو چیک کرائے جاتے تھے اورکاپی جانے سے پہلے اگر ایک سطر بھی حکومت کے خلاف ہوتی تھی تو اسے اتروا دیا جاتا تھا ، صحافیوںکوکوڑے بھی مارے گئے ، اسی طرح پرویز مشرف کے دور میں سیاسی مخالفین کے ساتھ بہت مظالم ہوئے۔ نوازشریف کو ہیلی کاپٹرکیس میں عمر قیدکی سزا سنائی گئی جبکہ طیارہ سازش اغوا کیس میں 27سال قید ہوئی اور اس وقت کے جج جسٹس رحمت حسین جعفری نے بعد ازاں اعتراف کیا کہ پرویز مشرف اور اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کا ان پر دبائو تھا کہ نوازشریف کو پھانسی کی سزا دی جائے گوکہ بعد ازاں سابق امریکی صدر بل کلنٹن اورسعودی عرب کے شاہی خاندان کی مداخلت سے پرویز مشرف سے معاہدہ کرکے نوازشریف کو سعودی عرب جلاوطن ہونا پڑا ۔عمران خان کا جہاں تک یہ کہنا کہ صرف تحریک انصاف کے خلاف کریک ڈائون ہو رہا ہے درست بات نہیں ہے۔ کیا ماضی میں کسی سیاسی جماعت نے حکومت یا اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات کے باعث کبھی جی ایچ کیو ،کسی کورکمانڈر ہائوس ، شہداء کی یادگاروں پر حملے کئے تھے؟ یقیناً ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے فوجی تنصیبات پر حملے کئے، انہیں نذر آتش کیا اور شہدا کی عزت و احترام اور تکریم کا خیال نہیں رکھا۔ علاوہ ازیں حکومت نے آڈیو لیکس کے معاملے پر تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمیشن قائم کر دیا ہے اس کمیشن میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان کو شامل کیا گیا ہے ۔ یہ کمیشن ایک ماہ میں حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرے گا اور سپریم کورٹ کے ایک جج مظاہر حسین نقوی اور چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے علاوہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار ، خواجہ طارق رحیم سمیت دیگر آڈیوز کے معاملے کی تحقیقات کرکے رپورٹ حکومت کو پیش کرے گا ، کمیشن قائم ہونے کے بعد عدلیہ کے بعض حلقوں میں پریشانی لاحق ہوگئی ہے اور ہائیکورٹ کے ججزکے ایک وفد نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے ملاقات کی ہے ، اس ملاقات میں چیف جسٹس ہائیکورٹ عامر فاروق شامل نہیں ہوئے، یہ ملاقات تین گھنٹے سے زائد دیر تک جاری رہی۔ باخبر حلقے تو یہ کہہ رہے ہیںکہ جسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میںکمیشن قائم ہونے کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججزکی ملاقات بڑی معنی خیز ہے گوکہ سپریم کورٹ نے اس حوالے سے کوئی اعلامیہ جاری نہیںکیا تاہم یہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ اس ملاقات میں حکومت اور عدلیہ کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی اور دیگر امور زیر غور آئے ۔
مزیدمسائل کھڑے
نئی آڈیولیک نے عمران کیلئے مزیدمسائل کھڑے کردئیے








