شعبہ طب میں مایہ ناز خدمات سر انجام دینے والی ڈاکٹر سیمی جمالی انتقال کر گئیں۔مرحوم کی نماز جنازہ کل بروز اتوار بعد نماز عصر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج (جے پی ایم سی) مسجد میں ادا کی جائے گی
ڈاکٹر سیمی جمالی گزشتہ تقریبا ً ڈھائی سال سے آنتوں کے کینسر میں مبتلا تھیں، انہیں گزشتہ دنوں طبیعت خراب ہونے پر نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
جناح اسپتال کی سابقہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈاکٹر سیمی جمالی نے صحت کے شعبہ میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ جس پر انھیں تمغہ ٔ امتیاز اور پاک فوج کی جانب سے اعزازی لیفٹیننٹ کرنل کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔
آئرن، بُلٹ، بم پروف لیڈی اور خطروں کی کھلاڑی کے نام سے پکاری جانے والی ڈاکٹر سیمی جمالی نے میڈیکل کی دنیا میں اپنی خدمات سے بڑا نام کمایا۔
جناح اسپتال کی سابقہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بہادری، دلیری اور ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحت کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دیں ،ان کی خدمات کو نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ِممالک بھی سراہا جاتا رہا۔ 1988 میں ای آر (ER) ڈیپارٹمنٹ میں خدمات انجام دینے کا آغاز کیا۔
جدید ترین سہولیات سے آراستہ جناح اسپتال میں ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جس کو آج سارے پبلک سیکٹر اسپتالوں میں قابل فخر سمجھا جاتا ہے ۔ان کی بے پناہ خدمات پر انہیں تمغہ ٔ امتیاز اور پاک فوج کی جانب سے اعزازی لیفٹیننٹ کرنل کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔
حالات زندگی خود انہیں کی زبانی
ڈاکٹر سیمی جمالی نے گزشتہ سال جنگ اخبار کو ایک انٹرویو میں اپنے بارے میں تفصیلات کچھ اسطرح بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ میری جائے پیدائش لاہور ہے ، چھ سال کی تھی تو امی کا انتقال ہوگیا، پھر اہل خانہ کے ساتھ کراچی اپنے دادا، دادی کے پاس آگئی گلستان شاہ عبدالطیف بھٹائی اسکول سے میٹرک ، پی سی ایچ ایس گورنمنٹ کالج سے انٹر میڈیٹ اور نواب شاہ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔
سول اسپتال میں ہاؤس جاب کی اور پھر تین ٹیسٹس دئیے۔ پہلا ٹیسٹ پبلک ہیلتھ فیڈرل کمیشن ، دوسرا آغا خان یونیورسٹی اسپتال اور تیسرا این آئی سی وی ڈی کا دیا ۔ یہ تینوں ٹیسٹ پاس کرلیے۔ پھر پبلک ہیلتھ سروس کمیشن میں جانے کا ارادہ کیا۔
اعلیٰ تعلیم
1993 ء میں تھائی لینڈ سے پبلک ہیلتھ میں ماسٹرز کیا ، پھر امریکا سے پبلک ہیلتھ پالیسی پلاننگ اور روٹ انجری ایمرجنسی کئیر میں پوسٹ گریجویٹ فیلو شپ ٹریننگ کی۔
جناح اسپتال کی ایمرجنسی
1988ء میں جناح پوسٹ گریجوئٹ میڈیکل کالج (جے پی ایم سی ) سے کیرئیر کا آغاز کیا ۔ جے پی ایم سی میں اپنا تن من دھن سب کچھ لگا دیا، دن کا چین، رات کا سکون کسی کی بھی پروا نہیں کی ، بس ذہن پر ایک ہی بات سوار رہتی تھی کہ ایمرجنسی میں آئے ہوئے مریض کےعلاج میں کسی قسم کی لاپرواہی نہیں کرنی۔
سنگاپور اور دیگر ممالک سے متعدد کورسرز کیے۔ جب میں سنگاپور ، تھائی لینڈ ،لندن اور امریکا گئی تھی تو میں نے وہاں کی ایمرجنسی سے بہت کچھ سیکھا تھا ۔ان تمام چیزوں کو جی پی ایم سی میں عمل کرانے کی کوشش کی اور اس میں کافی حد تک کام یاب بھی رہی ۔ وقت کے ساتھ میں ایمرجنسی میں تبدیلیاں لاتی رہتی تھی۔ میری پہلے دن سے یہی کوشش تھی کہ ایمرجنسی میں موجود تمام مریضوں کو بہترین طبی سہو لت فراہم کروں۔ کسی کو کوئی شکایت نہ ہو۔ کوئی بھی مریض یہاں سے مایوس ہو کر نہ جائے۔
2010 ء کے بعد جناح اسپتال کی ایمرجنسی بیرونی ممالک کی طرح کردی۔ میں ایمرجنسی وارڈ کا بالکل اس طر ح خیال رکھتی تھی جیسے ایک ماں اپنے بچے کا رکھتی ہے۔ میری دو بہنیں ہیں، دونوں امریکا میں ہیں۔ میرے شوہر کا تعلق بھی میڈیکل کے شعبے سے تھا وہ بھی ریٹائرڈ ہو گئے ہیں۔ دو بیٹے ہیں دونوں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
ڈاکٹر کیسے بنیں
شروع سے ہی ڈاکٹر بننے کا سوچا تھا اور شوق بھی تھا ، مگر اسکول جانے کے بعد اپنی ٹیچرز کو دیکھ کر ٹیچر بننے کا شوق ہوگیا لیکن والدین چاہتے تھے کہ ہم تینوں بہنیں ڈاکٹر بنے، ان کے خواب اور خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر بننے کا فیصلہ کیا۔ یہاں ایک بات ضرور بتانا چاہوں گی کہ میری امی کا تعلق بھی میڈیکل کے شعبے سے تھا۔
شعبہ طب میں مایہ ناز خدمات سر انجام دینے والی ڈاکٹر سیمی جمالی انتقال کر گئیں








