اسلام آباد (ما نیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے ایو ی ایشن کے اجلاس میں پاکستانی پائلٹس کے مبینہ فیک لائسنس کا معاملہ زیر غور آیاجس دوران ایف آئی اے نے انکشاف کیا کہ ان تمام تحقیقات میں جو اصل ملزم ہیں وہ اس کیس میں ہیں ہی نہیںہے ۔ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ اصل ملزموں کے بارے میں کسی کو کچھ علم ہی نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں ۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی زیلی کمیٹی برائے ایوی ایشن کا اجلاس ہوا جس میں میں پاکستانی پائلٹس کے مبینہ فیک لائسنس کا معاملہ زیر غور آیا ،کنوینر کمیٹی نے سوال کیا کہ پائلٹس کو کس بنیاد پر کرمنل ایف آئی آرز میں شامل کیا گیا ، ایف آئی اے نے کہا کہ کچھ پائلٹس نے انکوائری میں تسلیم کیا کہ انہوں نے امتحان میں کامیابی کیلئے رشوت دی ، سینیٹر فیصل سلیم نے کہا کہ ہماری قومی ایئر لائن پر مختلف ممالک میں پابندی لگ چکی ہے ،کنوینر کمیٹی نے کہا کہ سی اے اے نے ایف آئی اے کو ان پائلٹس کے متعلق کیوں لکھا؟ایوی ایشن ڈویژن حکام نے کہا کہ انٹر نیشنل میڈیا نے معاملے پر جیسے پروپیگنڈا کیا ہم سب پر دباؤ تھا، سیکریٹری ایوی ایشن کا کہناتھا کہ عالمی دباؤ اتنا تھا کہ معاملہ ایف آئی اے کے سپر دکر دیا گیا ، کنوینر نے کہا کہ بھارت میں بھی ایسے کیسزہوئے ، انہوں نے بغیر دباؤ میں آئے معاملے کو حل کیا، سٹوڈنٹس پائلٹس پر کرمنل کیس کیسے بنائے گئے ؟ایف آئی اے حکام نے کہا کہ دوبارہ معاملے پر تحقیقات شروع کی جا سکتی ہے ، فرانزک رپورٹ عدالت میں پیش کی جا چکی ہے ۔
سیکریٹری ایوی ایشن نے کہا کہ اگر ایف آئی اے سمجھتا ہے ان کی تحقیقات درست ہیں توپھر قانون کے مطابق کارروائی ہو گی،ایف آئی اے نے کہا کہ ایک ثبوت منی ٹریل اور دوسری پائلٹس کے امتحان کمپرومائز ڈ ہوناہے ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ہم ان پائلٹس کو دوبارہ نوکری پر بحال کرنا چاہتے ہیں، سینیٹرجن آفیسرز کو نکال دیا گیا ،و ہ پائلٹس سے تحقیقات کیسے کر رہے تھے ؟ایف آئی اے نے کہا کہ ان تمام تحقیقات میں جو اصل ملزم ہیں وہ اس کیس میں ہیں ہی نہیںہے ۔ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ اصل ملزموں کے بارے میں کسی کو کچھ علم ہی نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں ۔
ایف آئی اے نے کہا کہ ایک شخص جمیل مرکزی ملزم ہے ، اس نے پیشہ وارانہ امتحان میں رشوت لی ،ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ سول ایوی ایشن نے پائلٹس سے متعلق ڈسپلنری ایکشن لے لیا تھا ،ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ بہت سے پائلٹس نے ایف آئی اے تحقیقات میں حصہ نہیں لیا ،سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ 262 میں سے 180 پائلٹس کو بحال کیا گیاہے ، پی آئی اے کو پرواز منسوخیوں سے 700 ملین سے 1 بلین روپے تک نقصان ہو رہاہے ،کنوینر نے کہا کہ چھ جون کو معاملے پر عدالت میں ہونے والی سماعت کا انتظار کر لیتے ہیں۔کمیٹی نے معاملے کو چھ جون کی عدالتی سماعت کے بعد تک موخر کر دیا ۔
مبینہ جعلی پائلٹ لائسنس کا معاملہ، سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں معاملے سے متعلق ہوشربا انکشاف








