اسلام آباد (ممتازنیوز)پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی عطااللہ تارڑ کی پریس کانفرنس پر ردعمل جاری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی نے عبدالرزاق شر کے قتل کا مقدمہ وزیراعظم اور وزیرِ داخلہ کیخلاف درج کرنے کا مطالبہ کردیا ۔سپریم کورٹ سے سرکاری پریس کانفرنس میں عمران خان کیخلاف ایک اور جھوٹے مقدمے کے اندراج کی کوشش کا فوری نوٹس لینے کی بھی استدعا کردی۔مرکزی سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریک انصاف نے کہاہے کہ عطاءاللہ تارڑ کے الزامات مکمل طور پر لغو، بےبنیاد اور بیہودہ ہیں۔انہوں نے عبدالرزاق شر کا قتل تحریک انصاف کو کچلنے کیلئے پہلے سے جاری شرمناک، غیرآئینی اور غیرقانونی مہم کا تسلسل قرار دیا۔
مرکزی سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریک انصاف رؤف حسن نے کہا کہ عطاءاللہ تارڑ کی پریس کانفرنس ایک وکیل کے مجرمانہ قتل پر پردہ پوشی کی سفّاک کوشش ہے۔عبدالرّزاق شر کا خون انہی ہاتھوں پر ہے جنہوں نے 9 مئی کو آگ اور خون کا شرمناک کھیل کھیلا۔عبدالرزاق شر کے قتل میں وہی کردار ملوّث ہیں جنہوں نے 9 مئی کو 25 بےگناہ پاکستانیوں کو قتل، سینکڑوں کو زخمی کیا۔ملک میں لاقانونیت اور آئینی و انتظامی دہشتگردی میں ملوث حکمران گروہ نے 9 مئی کو جمہور کی بالادستی کو ذبح کرنے کی کوشش کی،عبدالرزاق شر کے قتل پر بلا تحقیق 2 گھنٹوں میں چیئرمین تحریک انصاف پر الزام اسی شرمناک منصوبے کا شاخسانہ ہے۔قتل و غارت گری کے واقعات اور بلاتحقیق تحریک انصاف اور چیئرمین تحریک انصاف پر الزام اب ایک روایت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔3 نومبر کو وزیرآباد میں عمران خان کو گولیاں ماری گئیں، مقدمہ درج ہوا نہ آج تک کوئی تحقیقات کی گئیں۔9 مئی کو پرامن احتجاج کا فائدہ اٹھا کر جلاؤ گھیراؤ کیا گیا اور سینکڑوں شہریوں کو گولیاں ماری گئیں مگر ابھی تک کوئی تحقیق نہیں کی گئی۔عبدالرزاق شر کے آج کے قتل پر بھی بلاتحقیق عمران خان کو ایک اور جھوٹے مقدمے میں نامزد کرنے کا سرکاری اعلان کیا گیا۔خود پر قاتلانہ حملے کے بعد عمران خان نے وزیراعظم، وزیر داخلہ اور خفیہ ایجنسی کے ایک اعلیٰ افسر کو نامزد کیا۔عمران خان نے ان تینوں افراد کے عزائم سے قوم کو مسلسل آگاہ کیا۔یہ تینوں افراد بدستور عہدوں پر موجود ہیں اور ملک انتشار اور قتل و غارت گری کی آگ میں جل رہا ہے۔عمران خان ڈیڑھ سو سے زائد جھوٹے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔عبدالرزاق شر کے قتل کا مقدمہ عمران خان کی بجائے وزیراعظم اور وزیرِداخلہ کیخلاف درج کیا جائے۔دونوں کو عہدوں سے ہٹا کر شاملِ تفتیش کیا جائے۔سپریم کورٹ عبدالرزاق شر کے قتل اور سرکاری پریس کانفرنس کا نوٹس لے اور ذمہ داروں کیخلاف فوری کارروائی کا اہتمام کرے۔









