لاہور: سابق وفاقی وزیر اور پرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مونس الٰہی پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے، مقدمے میں سابق رکن قومی اسمبلی سمیت سات افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں راسخ الٰہی کی اہلیہ زہرا الٰہی بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ احمد فرحان خان،ضیغم عباس، وجاہت احمد خان،عامرسہیل اور عمارفیاض کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ مونس الہٰی نے بطور وفاقی وزیر آبی ذخائر کے منصوبوں میں اربوں روپے کی کرپشن کی اور کروڑوں روپے رشوت کی مد میں وصول کیے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزم نے اکاؤنٹس میں 121 اعشاریہ 65 ملین جمع کرائے، تمام رقوم 2019ء سے 2022ء میں جمع کرائی گئیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) لاہور نے سابق وفاقی وزیر مونس الہٰی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کرلیا۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے مونس الہٰی کے خلاف ریڈ نوٹس بھی جاری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
مقدمے میں درج کیا گیا کہ مونس الہٰی نے کرپشن اور رشوت ستانی سے کمائی گئی رقم کی منی لانڈرنگ کی اور فرنٹ مین کے ذریعے اپنی فیملی اور دیگر ملزمان کے اکاؤنٹس میں رقوم جمع کرائیں۔









