ملتان(مقبول حسین) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ میرے خلاف 21 مقدمات درج ہو چکے ہیں،میں قید تنہائی کے باوجود ثابت قدم رہا ڈگمگایا نہیں جس سے تمام قیاس آرائیاں اور ابہام دور ہو گئے ہیں۔ میں تو ملتان میں موجود ہی نہیں تھا اور نہ کسی واقعہ میں ملوث ہوں پھر نہ جانے مجھے کیوں ملوث کیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ضلع کچہری ملتان میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات چیت میں کرتے ہوئے کیا۔ انہو ں نے کہا 9 مئی کے حوالے سے مجھ پر 5 مقدمات درج کیے تھے۔ 13 دفعات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔میری بیوی ہسپتال میں داخل میں کراچی تھا اڈیالہ جیل میں تھا پھر بھی مجھ پر مقدمات درج کیے گئے۔میرا ضمیر صاف ہے۔مجھے 3 ایم پی او کے تحت جیل میں بند کیا گیا میں نے دفعہ144 کی خلاف ورزی نہیں کی۔میں نہ کسی تھوڑ پھوڑ کا حصہ تھا اور نہ ہوں۔ میں ڈپٹی کمشنر راولپنڈی سے پوچھتا ہوں کہ جیل میں بیٹھا ہوا شخص کیسے کسی ایشو میں ملوث ہوسکتا ہے۔جیل میں بجلی بند کردی جاتی تھی نل کا پانی مہیا کیا جاتا تھا۔جون کی گرمی میں جیل میں بجلی کی سہولت نہیں تھی۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں ملتان میں موجود نہیں ہوں پھر بھی مقدمات درج کیے گئے۔ فرار تو میں تھا، میرے آفس میں زائرین اور ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھانوں میں بند کردیا گیا۔مجھے ملاقات کے لیے سخت گرمی میں پانچ پانچ گھنٹے انتظار کروایا جاتا تھا، اور صرف 15، 20 منٹ ملاقات کروائی جاتی تھی۔انہوں نے کہا وہ قیاس آرائیاں اور ابہام دور ہوگیا، میں ڈگمگایا نہیں ثابت قدم رہا۔آج بھی جیلوں میں تحریک انصاف کے بے گناہ کارکنان جیل میں قید ہیں۔انہوں نے کہا میرا بچہ بے قصور تھا لیکن انہوں نے مخدومزادہ زین حسین قریشی پر بھی 2مقدمات درج کروادیے۔ آج وہ دربدر ہے میری پوتیاں اپنے بابا۔ کے حوالے سے مجھ سے سوال کرتیں ہیں۔میں وکلا برادری کا شگر گزار ہوں جنہوں نے میرا دفاع کیا۔انہو ں نے کہا اللہ کا کرم ہے کیس کی ضمانتیں ہورہی کل ملتان کے تمام آستانوں پر حاضری دونگا۔میں ایڈیشنل سیشن جج صاحبان کا مشکور ہوں، جنہوں نے عبوری ضمانت منظور کی ہے۔اب تک مجھ پر مجموعی طور پر 21 ایف آئی آرز کاٹی گئی ہیں۔انہوں نے کہا میں پاکستان کے ذرے ذرے سے محبت کرتا ہوں۔بطور وزیر خارجہ بیرون ملک پاکستان کے ہر ادارے کا دفاع کیا۔میں کسی واقعے میں ملوث نہیں تھا۔کبھی توڑ پھوڑ کی سیاست نہیں کی۔ 40 سال کی سیاست میں اپنا دامن صاف رکھا ہے۔
جیل میں بجلی بند کردی جاتی تھی، نل کا پانی مہیا کیا جاتا تھا،شاہ محمود قریشی








