بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

یونان کشتی حادثہ، اعلیٰ سطح پرقائم چاررکنی کمیٹی نے تحقیقات کا آغاز کردیا

اسلام آباد(صغیر چوہدری ) یونان کشتی حادثے کی تحقیقات کے لئے چار رُکنی اعلیٰ سطح کمیٹی نے تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے ۔ لیکن اسکی کی تحقیقات صرف لوکل سطح یعنی پاکستان تک ہی محدود ہیں ابھی تک یونان کے سفارت خانے سے معلومات کا کوئی خاطر خواہ تبادلہ سامنے نظر نہیں آیا اور نا ہی اس المناک واقعے پر یونانی سفیر کو طلب کرکے تحفظات سے آگاہ کیا گیا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید،حقائق سامنے آرہے ہیں بچ جانے والے پاکستانیوں کے بیانات بھی تحقیقاتی کمیٹی کے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہوسکتے ہیں اور حقائق،تک پہنچا جاسکتا ہے لیکن ابھی تک اس پہلو کو شائد اتنا اہم تصور نہیں کیا جارہا۔ تارکین وطن کے لئے اقوام متحدہ کا ایک ذیلی ادارہ بھی قائم ہے جو پکڑے جانے والے تارکین کے لئے انسانی حقوق کی بنیاد پر انتظامات کرتا ہے جن میں انکی واپسی کی ٹکٹ کھانے پینے اور رہائش کا بندوبست ۔و میڈیکل کی سہولت وغیرہ شامل ہوتی ہے لیکن اتنے بڑے واقعے پر اقوام متحدہ کا یہ ادارہ بھی متحرک نظر نہیں آیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ واقعہ دوسرے ملک میں پیش،آیا ہے اس لئے متعلقہ ملک کے سفارت خانے کو اس میں آن بورڈ کرنا ضروری ہے ۔ دوسری جانب جو اس،حادثے میں بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے انکے بیانات اور غیر ملکی خبر رساں اداروں کو دئیے گئے انٹرویوز بھی بڑے تہلکہ خیز ہیں ۔ جس میں یونان کے کوسٹ گارڈز پر بہت سے سوالات اٹھتے ہیں اب تک جو بیانات یا حقائق سامنے آرہے ہیں اسکے مطابق تو کشتی ڈوبی نہیں بلکہ اسے کوئی لے ڈوبا ۔ متاثرہ نوجوان کے بیان کے مطابق کشتی کے اطراف کوسٹ گارڈز کے ہیلی کاپٹرز اور کشتیاں مسلسل کئی گھنٹے تک گھیرے میں لے کر پٹرولینگ کرتے رہے ۔ اور پھر اس کشتی کا رخ بھی اٹلی کی طرف تھا ۔ جب کشتی ہچکولے کھاتے ہوئے ڈوب رہی تھی تو اس وقت بھی ہیلی کاپٹرز اور کوسٹ گارڈز کی کشتیاں ریسکیو کرنے کی بجائے موقع پر ۔موجود تھیں۔ اور کشتی ڈوبنے کے کئی گھنٹے بعد بھی ریسکیو کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وہ تارکین وطن کو بچانے کی بجائے اپنے اعلی حکام کی ہدایات کی روشنی میں کشتی کے ڈوبنے کا انتظار کررہے تھے چونکہ جب سمندر میں اتنی بڑی کشتی چلتے چلتے اچانک رک جائے تو پھر وہ خود بخود ڈھولنے لگتی ہے ۔ اور اس کشتی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ پکڑے جانے کے خوف سے جب لوگوں نے رکی ہوئی کشتی سے چھلانگ لگانے کی کوشش کی تو پھر ہچکولے کھاتے ہوئے یہ کشتی توازن برقرار نا رکھ سکی اور الٹ گئی۔ دوسری جانب آج سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اور نیشنل پولیس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل احسان صادق کی سربراہی میں کمیٹی نے تحقیقات کا آغاز بھی کردیا ہے اس کمیٹی نے ایف آئی اے سے اہم ریکارڈ طلب کر لیا ہے ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خارجہ جاوید احمد عمرانی بھی کمیٹی کا حصہ ہیں آزادجموں وکشمیر پونچھ ریجن کے ڈی آئی جی اور جوائنٹ سیکریٹری وزارت داخلہ کمیٹی کے ممبران ہیں ۔ لیکن تاحال کوئی ٹھوس پیشرفت سامنے نہیں آسکی ۔