بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سپریم کورٹ: فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پرسماعت آج ہوگی

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں  پر  تیسری سماعت آج ہوگی۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں7 رکنی بینچ  ساڑھے 9 بجے سماعت کرےگا، جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور  جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ کا حصہ ہیں۔

شہری جنید رزاق کے وکیل سلمان اکرم راجہ آج دلائل کا آغاز کریں گے، اعتزاز  احسن کے وکیل لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہوچکے ہیں، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل احمد حسین اور سول سوسائٹی کے  وکیل فیصل صدیقی نے بھی دلائل مکمل کرلیے ہیں۔

اٹارنی جنرل منصورعثمان، وزیراعظم شہباز شریف کے وکیل فروغ نسیم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے  وکیل بھی مقدمے میں دلائل دیں گے۔

عدالت عظمیٰ نے چاروں صوبوں سمیت اسلام آباد سے گرفتار افراد کی تفصیلات طلب کی تھیں۔

گزشتہ سماعت میں اٹارنی جنرل نے 9 مئی کے بعد گرفتار افراد کے اعداد وشمار عدالت میں پیش کیے تھے، اٹارنی جنرل کی رپورٹ کے مطابق 9 مئی کے واقعات میں ملوث 102 ملزمان  فوج  کی تحویل میں ہیں۔ پنجاب حکومت نے  بھی ایڈووکیٹ  جنرل کے  ذریعے گرفتار  افراد  کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت میں جواب جمع کرایا ہےکہ فوج کی تحویل میں کوئی خاتون،کم عمر افراد، صحافی یا وکیل نہیں ہے۔

2 جج صاحبان کے اعتراضات کے بعد7 رکنی نیا بینچ تشکیل

یاد رہےکہ فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے چیف جسٹس پاکستان نے 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کے اعتراضات کے بعد 9 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا اور چیف جسٹس نے 7 رکنی نیا بینچ تشکیل دے دیا۔

بعد ازاں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اب 7 رکنی بینچ ہی کیس کی سماعت کرے گا۔

گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے کہا تھا کہ منگل تک کیس کا فیصلہ کر سکتے ہيں۔