اسلام آباد (انٹرویو ، صغیر چوہدری ایڈیٹر رپورٹنگ )وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ کوشش کریں گے جلد عام انتخابات ہوں، انتخابی اصلاحات، نیب اصلاحات اولین ترجیح ہے، آئندہ بجٹ مشکل ترین ہوگا، عوام کو سچ بتائیں گے، کابینہ اجلاس میں کہا ہے کہ وائٹ پیپر شائع کرکے عوام کو ساری صورتحال بتائی جائے۔
خورشید شاہ نے کہ صرف ڈیمز کا نظام بہتر کرکے پاکستان کا قرضہ ختم اور آبی نظام بہتر کیا جاسکتاہے، پانی کی تقسیم کا صوبوں کے درمیان موجود فارمولہ جاری رہے گا، کسی صوبے سے پانی کی تقسیم کے معاملے پر زیادتی نہیں کریں گے، بھارت سے پانی کے تنازعے کی وجوہات ختم کریں گے، ہائیڈل، سولر اور دیگر توانائی حاصل کرنے کے منصوبے توانائی بحران کا مستقل حل ہیں، ماضی میں ڈیموں کے نام پر جو فنڈ اکٹھا کیا گیا اس کا حساب لیں گےخورشید شاہ نے کہا کہ ظلم یہ ہے کہ اونے پونے داموں توشہ خانہ سے 120 قیمتی تحائف خرید کر مارکیٹ میں مہنگے داموں بیچ دیے گئے۔ وزیر ابی وسائل نے کہا کہ اگر عمران توشہ خانے کے تحائف اپنے گھر میں رکھتے تو ہمیں خوشی ہوتی اور شائد ہم اعتراض نا کرتے۔۔ خورشید شاہ نے کہاکہ 98 کروڑ روپے دفتر سے گھر جانے کیلئے خرچ کرنے والا وزیراعظم چائے بسکٹ کی بچت کے ڈرامے کرتا رہا۔
ایک سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے کہا کہ کسی قسم کی انتقامی کاروائی نہیں کریں گے، انصاف کریں گے، نیب کو کسی کے خلاف استعمال نہیں کریں گے نا ہی نیب کو ختم کریں گے صرف نیب کے کالے قوانین کو ٹھیک کریں گے، کوشش کریں گے کہ پہلے ثابت ہوجائے کہ کس نے ملک کا نقصان کیا، پھر اس سے حساب لیں گے، پیپلزپارٹی خود پر تکلیف سہہ کر جمہوری نظام کو چلانے پر یقین رکھتی ہے، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے سیکھا ہے کہ دونوں جماعتوں کی لڑائی سے فائدہ کسے ہوتا ہے اور نقصان کسے ہوتا ہے، میڈیا نے ہمیشہ عمران خان ک ساتھ دیا، تاہم عمران خان نے میڈیا پر ہی قدغن لگائیخورشید شاہ نے کہا کہ تحریک انصاف نے یہ کہہ کر کہ اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں اتارا، بیرونی طاقتوں کے ہٹانے کے بیانے کو خود مار دیا، عمران خان پہلے یہ فیصلے کریں کہ ان کی حکومت ہٹائی کس نے، عمران خان کی حکومت عوام اور عوام کی چیخوں نے ہٹائی ہے
عمران خان کے جلسوں میں وہ لوگ آتے ہیں جن کا پیٹ بھرا ہوا ہے، وہ غریب جو آٹا نمک نہیں خرید سکتا وہ پریشان ہے، پاکستان اس صورتحال میں آچکا ہے جو 70 کی دہائی میں گلگت بلتستان کی تھی کہ جہاں کوئی آدمی کچھ خرید نہیں سکتا تھاخورشید شاہ کہتے ہیں کہ عمران خان خوش قسمت آدمی ہے جسے کمزور اپوزیشن ملی، عمران خان اگر ڈیڑھ سال اور حکومت میں رہتا تو رہی سہی کسر بھی نکل جاتی، کسی قسم کا کوئی دعوی نہیں کروں گا کہ 6 ماہ میں صورتحال تبدیل ہوجاَئے گی، بہت کوشش بھی کی تو آئندہ 6 ماہ میں 3 سے 4 فیصد بہتری ہوگیموجودہ حکومت بڑا چیلنج ہے، حالات کے حوالے سے عوام کو اعتماد میں لینا ہوگا، پاکستان کی معیشت کا برا حال کردیا گیا ہے،
ڈراونی صورتحال ہے، وزیراعظم نے شہباز شریف نے بڑا دل کرکے کام کا آغاز کیا ہے، ہماری حکومت ہیلی کاپٹر حکومت نہیں ہے، قوم کی خدمت کریں گے









