بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

صدر،چیئرمین سینیٹ نہ گورنرکی تقرری،بلاول کی جانب سے کوئی مطالبہ نہ کرنے پرنواز شریف سمیت ن لیگی قیادت حیران

لندن(نیوز ڈیسک )پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے اپنی تین گھنٹے کی ملاقات میں سینٹ چیئرمین ،گورنرپنجاب یاسیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی ،خفیہ ذرائع نے اس حوالے سے تصدیق کی کہ بلاول بھٹوزرداری اورمیاں نواز شریف نے ملاقات کے دوران ،سینٹ ،گورنرپنجاب ،یاصدر کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی

اس کے حوالے سے میڈیا کی قیاس آرائیاں بے بنیاد تھیں۔بلاول اورمیاں نواز شریف کی تین گھنٹے کی طویل ملاقات کے دوسیشن تھے پہلے سیشن میں بلاول اورنوازشریف کی ون آن ون ملاقات ہوئی جبکہ دوسرے سیشن میں دونوں جماعتوں کی سینئرقیادت بھی موجود تھی۔قابل اعتبارذرائع کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ملاقات کے دوران بلاول بھٹوزرداری نے صدر ،گورنراورچیئرمین سینٹ کی تقرری کے حوالے سے میاں نواز شریف کے سامنے کوئی مطالبات نہیں رکھے۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملک کے نئے صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ اور گورنر پنجاب جیسے عہدوں سے متعلق مشاورت ہوگی۔

تاہم دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے بتایا کہ اس ملاقات کا مقصد دونوں پارٹیوں کے درمیان طویل مدت کے لیے رشتے مضبوط کرنا اور ان آئینی و قانونی معاملات پر قانون سازی پر اتفاق کرنا تھا جو ’چارٹر آف ڈیموکریسی‘ یعنی میثاق جمہوریت میں رہ گئے تھے۔

بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پیپلز پارٹی کی ٹیم کی میاں نواز شریف اور ان کی ٹیم سے یہ ایک طویل ملاقات تھی۔ اس ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے میاں نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے متعدد بار ’چارٹر آف ڈیموکریسی‘ کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہ ایک بار پھر اس تاریخ کو دہرانا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ سال 2006 کے دوران بلاول بھٹو کی والدہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت کے معاہدے میں دونوں جماعتوں نے بعض آئینی ترامیم، سیاسی نظام میں فوج کی حیثیت، نیشنل سکیورٹی کونسل، احتساب اور عام انتخابات کے بارے میں اتفاق رائے قائم کی تھی۔