بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایلون مسک سے تنگ صارفین کیلئے فیس بک نے ٹوئٹر کی متبادل ایپ تیار کرلی

فیس بک کی پیرنٹ کمپنی ”میٹا“ ایک نئی ایپ کی لانچگ کیلئے تیار ہے جو بظاہر ٹویٹر کی نقل دکھائی دیتی ہے، اور ایلون مسک کی ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے لئے براہ راست چیلنج ہے۔

ایپل کے ایپ اسٹور کی لسٹنگ میں ”تھریڈز“ نامی یہ ایپلی کیشن نمودار ہوئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمعرات تک یہ ایپ دستیاب ہوگی۔

اس ایپ کے اسکرین شاٹس سے اس کا ڈیش بورڈ اور انٹرفیس ٹویٹر سے ملتا جلتا لگتا ہے۔ میٹا نے اسے ”ٹیکسٹ بیسڈ کنورسیشن ایپ“ یعنی لکھ کر تبادلہ خیال کرنے والی ایپ قرار دیا ہے۔

 تھریڈز کا انٹرفیس (تصویر: میٹا)

ایپ اسٹور کی لسٹنگ میں دکھائے گئے اسکرین شاٹس کے مطابق انسٹاگرام صارفین اپنا ”یوزر نیم“ رکھ سکیں گے اور نئی ایپ پر ان ہی اکاؤنٹس کو فالو کر سکیں گے۔

ایپ اسٹور پر موجود اس ایپ کی تفصیل میں کہا گیا ہے کہ تھریڈز وہ جگہ ہے جہاں کمیونٹیز ان موضوعات پر بات کرنے کے لیے جمع ہوتی ہیں جن کے بارے میں آپ آج اہمیت دیتے ہیں اور یہ کہ کل کیا ٹرینڈ ہوگا۔

ایلون مسک کے لیے ”تھریڈز“ نیا درد سر ثابت ہوسکتی ہے۔

مسک نے گزشتہ سال ٹویٹر کو 44 بلین ڈالر میں حاصل کیا تھا اور وہ ایسی تبدیلیاں کر رہے ہیں جنہوں نے سے مشتہرین کو بے چین کر دیا ہے اور صارفین پر پابندیاں لگا دی ہیں، ان میں لوگوں کے ٹویٹس کی پڑھنے تعداد پر نئی حدود بھی شامل ہیں۔

میٹا ایپ ہونے کی وجہ سے تھریڈز آپ کے فون پر لوکیشن ڈیٹا، خریداری اور براؤزنگ ہسٹری سے متعلق ڈیٹا معلومات کو بھی جمع کرے گی۔

تھریڈز انسٹاگرام پلیٹ فارم کا حصہ ہو گی، اس لیے یہ کروڑوں اکاؤنٹس سے بھی منسلک ہو گی اور ممکنہ طور پر صارفین انسٹاگرام پر موجود اپنے فالوورز کو نئے پلیٹ فارم پر منتقل کر سکیں گے۔صارفین کے لیے انسٹاگرام کے مواد کو نئی ایپلی کیشن پر شیئر کرنے کے سہولت بھی میسر ہو گی۔