بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکا ایران کشیدگی، سپلائی خدشات بڑھنے کے بعد خام تیل مہنگا ہوگیا

مشرق وسطیٰ(Middle East) میں امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے بعد اہم تیل پیدا کرنے والے خطے سے سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے، جس کے نتیجے میں منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

برینٹ خام تیل کے نومبر کے سودے 56 سینٹ یا 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 91.05 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 83 سینٹ یا 1 فیصد بڑھ کر 86.59 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

گزشتہ سیشن میں برینٹ کی قیمت 2.7 فیصد بڑھ کر بند ہوئی تھی اور دورانِ کاروبار 25 اگست کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 21 اگست کے بعد کی بلند ترین سطح پر رہی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کے خلاف مزید حملوں کی دھمکی دی۔ اتوار کو دونوں ممالک کے درمیان ایک ماہ بعد براہِ راست حملوں کا پہلا تبادلہ ہوا تھا، جس سے خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے۔

کے سی ایم کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی سے خلیج میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس کا اثر خام تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والے کپلر کے مطابق ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کموڈٹی جہازوں کی تعداد نمایاں کم ہو کر روزانہ صرف پانچ رہ گئی۔

مزیدپڑھیں:عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی

قطر اور عمان سمیت ثالث ممالک کی آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہوسکیں۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصہ تیل کی سپلائی اسی آبی گزرگاہ سے منتقل ہوتی تھی۔

برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی (یو کے ایم ٹی او) نے منگل کو بتایا کہ آبنائے ہرمز سے باہر نکلتے ہوئے ایک ٹینکر کو تین پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، تاہم کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی اثرات کی اطلاع نہیں ملی۔

دوسری جانب امریکا نے وینزویلا کے تیل کے ذخائر سے متعلق ایک معاہدہ کیا ہے، جبکہ امریکی اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو کے ذخائر گزشتہ ہفتے تقریباً 3.1 ملین بیرل کم ہو کر 286.6 ملین بیرل رہ گئے۔

رائٹرز کے اگست میں کیے گئے تجزیاتی سروے کے مطابق 2026 میں تیل کی قیمتیں 80 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنے کا امکان ہے کیونکہ شپنگ میں خلل جاری رہنے کا خدشہ ہے۔