امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) نے ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
پیر کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جب ایک رپورٹر نے ان سے سوال پوچھا کہ ”کیا آپ نے ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار کے استعمال کا آپشن رد کر دیا ہے؟“ تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ”وہ (ایران) فوجی طور پر مکمل طور پر شکست کھا چکے ہیں، میں نے انہیں شکست دے دی ہے اور اب میں ان پر ایٹمی ہتھیار استعمال کروں؟ یہ کتنا احمقانہ سوال ہے۔“
“Have you ruled out using a nuclear weapon against Iran?”@POTUS: “They’re totally defeated militarily — so I defeat them and now I should use a nuclear weapon on top of them? What a stupid question.” pic.twitter.com/Gv9dXAJ9Zu
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) August 31, 2026
صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
ایران کی موجودہ صورتحال اور جنگ کے دائرہ کار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کو ایک ناکام ریاست قرار دیا۔
مزیدپڑھیں:’چمڑے کی بیلٹوں سے مارا جاتا تھا، کئی بار حمل ضائع ہوا‘، ‘فریال گوہر کا دردناک انکشاف
ان کا کہنا تھا کہ ایران میں ساڑھے تین سو فیصد مہنگائی
ہے، ان کی کرنسی ختم ہو چکی ہے، وہ اپنے فوجیوں کو تنخواہیں نہیں دے رہے، ان کے اکثر رہنما مارے جا چکے ہیں اور ان کی بحریہ اور فضائیہ تباہ ہو چکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ”اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم انہیں مزید نقصان نہیں پہنچائیں گے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔“
NEW: President Trump addresses the resumed U.S. strikes against Iran:
“It’s very limited.”
Trump called Iran a “failed nation” and left the door open to further action, saying, “That doesn’t mean we won’t smack them. We’ll see what happens.” pic.twitter.com/619OBq75Ej
— Fox News (@FoxNews) August 31, 2026
انہوں نے یہ بھی دہرایا کہ ”ایران کے پاس کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں ہوگا، کیونکہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتا تو اسرائیل کا وجود ختم ہو چکا ہوتا اور مشرقِ وسطیٰ میں کچھ نہ بچتا، لہٰذا تہران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔“
آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ صورتحال انتہائی بہتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری بحریہ کی مدد سے گزشتہ رات متعدد جہاز وہاں سے گزرے ہیں اور ہم روزانہ اوسطاً تیس جہازوں کی آمد و رفت یقینی بنا رہے ہیں جس سے بڑی مقدار میں تیل باہر جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتیں اس حد تک نہیں بڑھیں جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ تہران پر بڑھتا ہوا دباؤ عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے اور خطے کی سلامتی کو برقرار رکھنے کا حصہ ہے۔









