خالصتان ٹائیگر فورس کے سربراہ ہردیپ سنگھ نجار کے قتل پر بھارت میں شدید مظاہرے جاری ہیں، مطاہرین کا مطالبہ ہے کہ کینیڈین حکومت ہردیپ سنگھ نجار کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کرے۔
بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں سکھ مظاہرین نے بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ضلعی دفتر کے باہر بڑا مظاہرہ کیا۔
سکھ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہردیپ سنگھ نجار کے قاتل وزیراعظم مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر خارجہ جے شنکر اور اجیت دوول ہیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ را سکھ رہنماوٴں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہے، کینیڈین حکومت ہردیپ سنگھ نجار کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کرے۔
بھارتی صحافی جگتار سنگھ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں یہ شاید پہلا ایسا احتجاج ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ’دل خالصہ کی قیادت میں سکھ کارکنوں نے امرتسر میں را کے خلاف احتجاج کیا، ایجنسی کے دفتر جاتے ہوئے گرفتاریاں ہوئیں۔‘
جگتار سنگھ نے بتایا کہ ’اس سے قبل کینیڈا میں ہلاک ہونے والے ایچ ایس نجار کا بھوگ گولڈن ٹیمپل کمپلیکس میں ادا کیا گیا تھا۔‘
#Punjab Perhaps first such protest. Sikh activists led by Dal Khalsa staged protest against RAW in Amritsar, arrested while going to office of that agency. Earlier bhog of H S Nijjer gunned down in #Canada was performed in Golden Temple complex. pic.twitter.com/aH20hjn9Dl
— Jagtar Singh (@jagtar201) July 1, 2023
ہردیپ سنگھ نجار کو بدنام زمانہ بھارتی ایجنسی را کے قاتلوں نے 18 جون کو کینیڈا میں گردوارے کے باہر قتل کر دیا تھا۔
اپریل میں سکھ رہنما امرت پال سنگھ کی گرفتاری کے بعد سے بھارت میں آزاد خالصتان تحریک میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
Sikhs protesting in front of RAW’s Amritsar office in regards to killing of Bhai Hardeep Singh Nijjar in Surrey. pic.twitter.com/PcmoNulXSL
— Gurpreet S. Sahota (@GurpreetSSahota) July 1, 2023
رواں سال سان فرانسسکو میں بھارتی قونصل خانے پر دو مرتبہ سکھ مظاہرین نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
فروری 2023 میں بھی آسٹریلیا کے شہر برسبین میں 60 ہزار سکھوں نے آزاد خالصتان کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔
مارچ 2023 میں لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کی عمارت پر سکھ مظاہرین نے خالصتانی پرچم لہرایا تھا۔
مودی کے گزشتہ امریکی دورے پر بھی سکھ مظاہرین اور انسانی و صحافتی حقوق کی تنظیموں نے شدید مظاہرے کئے۔
آزاد خالصتان کی زور پکڑتی تحریک پر مودی سرکار شدید دباوٴ میں ہے۔









