بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سونا پھر سستا ہوگیا

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں(Gold Rates) میں پیر کو کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ اور اس کے نتیجے میں افراطِ زر کے خدشات میں اضافہ ہے۔ مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے باعث سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی پر مرکوز ہوگئی ہے، جبکہ شرحِ سود میں اضافے کے امکانات بھی مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد کمی کے بعد 4,334.31 ڈالر فی اونس ہوگئی۔ اس سے قبل جمعہ کو بھی سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جس کے ساتھ قیمتی دھات مسلسل تیسرے ہفتے ہفتہ وار بنیاد پر خسارے میں رہی۔

اسی طرح امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت میں 0.8 فیصد کمی ہوئی اور یہ 4,375.00 ڈالر فی اونس پر آگئی۔

شرح سود میں اضافے کی توقعات سونے کیلئے دباؤ کا باعث

کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر (Tim Waterer) کے مطابق موجودہ حالات سونے کیلئے سازگار دکھائی نہیں دے رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور امریکی فیڈرل ریزرو اور بینک آف جاپان کے آئندہ اجلاسوں سے قبل شرحِ سود میں اضافے کی بڑھتی ہوئی توقعات سونے کی قیمت پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔

تاہم ان کے مطابق قیمت میں کمی کی صورت میں سونے کے خریدار دوبارہ مارکیٹ میں سامنے آسکتے ہیں، کیونکہ جغرافیائی سیاسی صورتحال اور شرح سود سے متعلق پالیسی میں مسلسل تبدیلیوں کے باعث سونا اب بھی غیر یقینی صورتحال کے خلاف ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

امریکی افراط زر میں تیزی

امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کو گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے معاشی اعدادوشمار سے بھی تقویت ملی۔

اعدادوشمار کے مطابق اگست کے دوران امریکا میں صارفین کی قیمتوں میں تیزی آئی، جبکہ بنیادی افراط زر کے ایک اہم پیمانے میں گزشتہ چار ماہ کے دوران سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

افراط زر میں اضافے کے باعث مارکیٹ میں یہ توقعات بڑھ گئی ہیں کہ امریکی مرکزی بینک رواں ہفتے ہونے والے اپنے پالیسی اجلاس میں شرح سود میں اضافہ کرسکتا ہے۔

شرح سود میں اضافے کا امکان 86.5 فیصد تک پہنچ گیا

سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق ٹریڈرز امریکی مرکزی بینک کے منگل اور بدھ کو ہونے والے پالیسی اجلاس میں شرح سود میں اضافے کے تقریباً 86.5 فیصد امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پوزیشنز ترتیب دے رہے ہیں۔

یہ امکان گزشتہ ہفتے افراط زر کے اعدادوشمار سامنے آنے سے قبل تقریباً 67 فیصد تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی کے تازہ اعدادوشمار کے بعد شرح سود میں اضافے کی توقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

مزیدپڑھیں:ندا یاسر کی بیٹی سیلا ڈیجیٹل کریئٹر بن گئیں، پہلی ہی ویڈیو میں دلچسپ انکشافات

عام طور پر سونے کو افراط زر کے خلاف تحفظ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود کے ماحول میں منافع نہ دینے والے اثاثے، جیسے سونا، سرمایہ کاروں کیلئے نسبتاً کم پرکشش ہوجاتے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ

دوسری جانب پیر کو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ حملوں اور خلیج میں بحری جہازوں پر ایرانی حملوں نے عالمی سطح پر تیل کی رسد سے متعلق خدشات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ یہ صورتحال سعودی عرب کی ایک اہم تیل پائپ لائن کی بندش کے بعد سامنے آئی، جس نے پہلے ہی عالمی مارکیٹ میں سپلائی کے حوالے سے تشویش پیدا کر رکھی تھی۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے ساتھ سفارتی کوششوں کو بھی دھچکا لگا ہے۔ ایران اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات ملتوی کیے جانے کے بعد خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے جاری سفارتی کوششیں بھی تعطل کا شکار ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے نے عالمی افراط زر کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود سے متعلق آئندہ اقدامات بھی عالمی مالیاتی منڈیوں کیلئے اہم ہوگئے ہیں۔

دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتیں

دریں اثنا دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔

اسپاٹ سلور کی قیمت 0.7 فیصد کمی کے بعد 64.02 ڈالر فی اونس رہی۔

پلاٹینم کی قیمت 1,796.90 ڈالر فی اونس پر تقریباً مستحکم رہی، جبکہ پیلیڈیم کی قیمت میں معمولی تبدیلی ریکارڈ کی گئی اور یہ 1,298.80 ڈالر فی اونس کی سطح پر رہی۔

یوں عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں پر اس وقت ایک طرف بلند افراط زر اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کا دباؤ ہے، جبکہ دوسری جانب شرح سود میں ممکنہ اضافے کی توقعات سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہورہی ہیں۔