لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب کے نومنتخب وزیر اعلیٰ کی تقریب حلف برداری ایک مرتبہ پھر ملتوی کردی گئی،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کولینے کےلئے اسلام آباد بجھوایا جانے والا طیارہ خالی واپس لوٹا ،ادھر (ن)لیگ نے اس معاملے پر دوبارہ عدالت جانے کا فیصلہ کرلیا۔تفصیلات کےمطابق نومنتخب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی تقریب حلف برداری ہفتہ کو شام چاربجےگورنر ہاؤس میں منعقد ہو نا تھی تاہم بعد ازاں شیڈول تبدیل کیا گیا اور نئے شیڈول کے مطابق افطار کے بعد تقریب ہونا تھی اور اس حوالے سے انتظامات مکمل کرلئے گئے تھے ، 600 مہمانوں کو مدعو بھی کیا گیا تھا لیکن حلف لینے کے لئے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی لاہور نہ پہنچے،چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو اسلام آباد سے لینے کےلیے بجھوایاجانے والے پنجاب حکومت کا طیارہ خالی واپس لوٹا۔حلف برداری کی تیاریوں کے حوالے سے اب ذرائع گورنر ہاؤس کا کہنا ہے کہ زبانی اطلاعات پر گورنر ہاؤس میں حلف کی تیاریاں کی گئیں۔حلف برداری تقریب کب ہوگی سب بتانے سے قاصر ہیں ۔تاحال ایوان صدر سے کوئی بھی تحریری حکمنامہ موصول نہیں ہوا۔ادھر ن لیگ نے اس معاملے پر دوبارہ عدالت سے رجو ع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مسلم لیگ ن کےرہنماؤں عطا اللہ تارڑ اور محمد احمد خان نے ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں سردار اویس لغاری، رانا مشہود، خلیل طاہر سندھواور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب میں 22 روز سےکوئی وزیراعلیٰ اور کابینہ نہیں ہے، یکم اپریل سے شروع ہونے والا آئینی بحران ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا، آئین کی پامالی کا معاملہ ہو تو کسی بھی مہذب شہری کے پاس عدالت کا رُخ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ عطا تارڑ کاکہناتھاکہ گورنر نےآئین پاکستان کا وفادار رہنا تھا لیکن انہوں نےگورنر کے عہدے کو بےتوقیر کیا، وہ آئین شکن کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ان کا کہنا تھاکہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نےگزشتہ روز اپنے فیصلےمیں کہا تھا کہ گورنر حلف لینے سے انکار نہیں کر سکتا پھراطلاعات آئیں کہ گورنر اسپتال میں داخل ہو گئے ہیں،گزشتہ شام 6 بجے لاہور ہائیکورٹ کا حکم صدر پاکستان کو بھی وصول کرا دیا گیا تھا لیکن پورا دن گزرنے کے باوجود صدر اس پر غور ہی کیے جا رہے ہیں۔لیگی رہنما ملک احمد خان کا کہنا تھاکہ صدرمملکت آئین کے مطابق عمل کریں، وہ اپنی پارٹی کے عہدےداروں سے رائے لے کر زیادتی کر رہے ہیں، بابر اعوان اور فواد چوہدری کے صدر مملکت کے پاس پہنچنے سے پہلے حالات ٹھیک تھے لیکن پھر ایوان صدر کو یرغمال بنا لیا گیا ۔
واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں وزیراعظم شہبازشریف نے وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لینے کے لئے صدر مملکت عارف علوی کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے نام کا مشورہ دیا تھا۔ حلف کے معاملے پر صدرمملکت آئینی طورپروزیراعظم سے ایڈوائس لینے کے پابند ہیں۔ علاوہ ازیں اسلام آباد میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے چیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ملاقات کی جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں حمزہ شہباز کے بطور وزیراعلی پنجاب حلف لینے کے معاملہ پر بھی مشاورت ہوئی۔









