لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہری اور دیہی علاقوں رمضان المبارک کے دوران شدید گرمی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے ہائی لاس والے فیڈرز (تمام کیٹیگریز) کے دائرہ اختیار میں آنے والے دیہی اور شہری علاقوں میں صورتحال خوفناک ہے جہاں صارفین مختلف اوقات میں 4 سے 10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔
صارفین نے حکومت پر تنقید کی ہے کہ وہ بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بناکر مسئلے کو کم کرنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔
قصور کے ایک دیہی علاقے کے رہائشی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے شدید گرم موسم میں خوفناک لوڈشیڈنگ ہمیں کاٹ کھا رہی ہے لیکن حکام بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے بلند بانگ دعوے کرتے رہتے ہیں، اس طرح کے دعوے بالکل غلط ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے کئی روز سے ہمیں مختلف اوقات میں 2 سے 4 گھنٹے تک بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔
باٹا پور کے رہائشی کے مطابق ’صارفین کو 4 سے 8 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے نیم دیہی علاقے کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے‘۔
جوہر ٹاؤن کے ایک رہائشی نے بتایا کہ ’موسم گرما کے آغاز سے خاص طور پر رمضان کے مہینے میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے ہمارے معمول کے کاروبار کو درہم برہم کر دیا ہے، پچھلے کئی روز سے سحر اور افطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ یا ٹرپنگ بھی ہورہی ہے۔
لیسکو ذرائع کے مطابق پنجاب کے کچھ حصوں میں بارشوں کے باعث ہیٹ ویو کا طویل دورانیہ کمزور ہونے کے بعد صورتحال میں بہتری آنا شروع ہوگئی ہے۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ ’افطار کے اوقات میں بجلی کا شارٹ فال کافی حد تک کم ہو گیا ہے، گزشتہ بدھ کو زیادہ سے زیادہ طلب 4 ہزار 900 میگاواٹ تک پہنچ گئی تھی جب کہ شارٹ فال 500 میگاواٹ سے زیادہ تھا‘۔
ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ توانائی کا جاری بحران جلد ہی ختم ہونے کا امکان ہے، کیونکہ نئی حکومت نے ایک فوری ٹینڈرنگ کے عمل کے ذریعے حال ہی میں 3 مائع قدرتی گیس کی خریداری کی ہے، ایل این جی کارگوز جو پاکستان کو یکم سے 2 مئی اور 12 سے 13 مئی کے درمیان ٹوٹل انرجی اور قطر انرجی ٹریڈنگ کے ذریعے 29.6700 ڈالر اور 24.1500 ڈالر فی ایمایم بی ٹی یو کی شرح سے فراہم کیے جائیں گے –
آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن (اے پی سی این جی اے) کے نمائندے غیاث پراچہ نے کہا کہ ’پچھلے 2 برس میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ مئی میں ملک کو اتنی بڑی مقدار میں ایل این جی ملے گی، اس کے علاوہ قطر کے ساتھ معاہدے کے مطابق ملک کو مئی میں 8 ایل این جی کارگو بھی معاہدے کے نرخوں پر ملیں گے، لہٰذا مئی میں موصول ہونے والے کل کارگوز کی تعداد 11 ہو جائے گی جو کراچی پورٹ پر ملک کے 2 نجی شعبے کے ایل این جی ٹرمینل کی ری گیسیفیکیشن کی کُل صلاحیت کے تقریباً برابر ہے‘۔
غیاث پراچہ کا کہنا ہے کہ اسی طرح پاکستان ان 9 کارگوز کے علاوہ قطر کے ساتھ معاہدے کے تحت طے شدہ نرخوں پر قطر انرجی ٹریڈنگ سے 6 سے 7 جون تک ایک اور ایل این جی کارگو حاصل کرے گا۔









