بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

چیئرمین نیپرا نے آڈٹ حکام کو ریکارڈ فراہم نہ کیا تو توہین پارلیمنٹ لگائیں گے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے چیئرمین نیپرا کو آڈٹ حکام کو ریکارڈ فراہمی کی ہدایت کردی، نور عالم خان نے کہاکہ پی اے سی کی ہدایات کے باوجود چیئرمین نیپرا عدالت کیوں گئے؟اگر ریکارڈ فراہم نہیں کریں گے تو توہین پارلیمنٹ لگائیں گے۔
نجی ٹی وی کے مطابق چیئرمین نور عالم خان کی زیرصدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا،دوران اجلاس آڈٹ حکام نے کہاکہ پی ٹی اے، اوگرا اور نیپرا، فریکونسی ایلوکیشن بورڈ ریکارڈ فراہم نہیں کر رہے۔
چیئرمین پی اے سی نے چیئرمین پی ٹی اے سے مکالمہ کرتے کرتے ہوئے کہاکہ امید ہے آپ ریکارڈ فراہم کر دیں گے، چیئرمین نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں موقف اختیار کیا کہ پی ٹی اے ریکارڈ فراہم کر دے گا۔
اوگرا حکام کا موقف تھا کہ جو بھی معلومات ہمارے پاس موجود ہیں وہ فراہم کر دیں گے،آڈٹ کے سکیل اور مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے، رکن پی اے سی شیخ روحیل اصغر نے کہاکہ تمام ادارے بغیر حیل و حجت کے اپنا آڈٹ کرائیں،چیئرمین پی اے سی نے ہدایت کی کہ پی ٹی اے، اوگرا اور نیپرا ایک ہفتے میں ریکارڈ فراہم کریں۔
آڈٹ حکام نے کہاکہ نیپرا انفارمیشن شیئر نہ کرنے کے حوالے سے عدالت میں گیا، چیئرمین نیپرا نے کہاکہ سٹے انفارمیشن شیئر نہ کرنے کے حوالے سے ہے، یہ سی پیک پروجیکٹس سے متعلق حساس انفارمیشن ہے، آڈٹ حکام نے چیئرمین نیپرا سے استفسار کیا انفارمیشن نہیں دینگے تو کام کیسے کرینگے۔
چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ کیا آپ کو کوئی ادارہ اینٹی سٹیٹ لگتا ہے،چیئرمین نیپرا کو سیکرٹری کابینہ سٹے واپس لینے کی ہدایت کریں،یہ اگر آڈٹ نہیں کرانا چاہتے تو استعفیٰ دیکر کہیں اور نوکری کریں۔
سید حسین طارق نے کہاکہ نیپرا کو آڈٹ کی ہدایت کی گئی تو یہ عدالت میں کیوں گئے؟چیئرمین پی اے سی نے ہدایت کہ نیپرا آڈٹ حکام کو اپنا ریکارڈ فراہم کرے، چیئرمین پی اے سی نے نیب اور ایف آئی اے کو بھی معاملہ دیکھنے کی ہدایت کردی، چیئرمین نور عالم خان نے کہاکہ پی اے سی کی ہدایات کے باوجود چیئرمین نیپرا عدالت کیوں گئے؟اگر ریکارڈ فراہم نہیں کریں گے تو توہین پارلیمنٹ لگائیں گے۔