بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بھارتی تاجر گوتم اڈانی کو پیچھے چھوڑ کر زینگ یامنگ ایشیا کے امیر ترین شخص بن گئے

ٹک ٹاک کی سرپرست کمپنی بائیٹ ڈانس کے بانی زینگ یامنگ نے بھارتی کاروباری شخصیت گوتم اڈانی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایشیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق زینگ یامنگ کے اثاثوں کی مالیت اس وقت 105 ارب ڈالرز ہے اور وہ دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں 18ویں نمبر پر موجود ہیں۔

گوتم اڈانی بھی اس وقت 105 ارب ڈالرز کے اثاثوں کے مالک ہیں، تاہم وہ دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں 20ویں نمبر پر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال زینگ یامنگ کی دولت میں40.3 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوچکا ہے، جبکہ گوتم اڈانی کے اثاثوں میں اس دوران20.4 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا۔

بھارت کے معروف کاروباری شخصیت مکیش امبانی 81.3 ارب ڈالرز کے اثاثوں کے ساتھ ایشیا کے تیسرے امیر ترین شخص ہیں۔

ٹک ٹاک کے بانی زینگ یامنگ کی دولت میں مارچ 2019 کے بعد سے اب تک تقریباً **8 گنا اضافہ** ہوچکا ہے، جبکہ صرف ستمبر 2026 کے دوران ان کی دولت میں 12 ارب ڈالرز سے زائدکا اضافہ ہوا ہے۔

زینگ یامنگ کون ہیں؟

ایشیا اور چین کے امیر ترین افراد میں شامل ہونے کے باوجود زینگ یامنگ انتہائی خاموش زندگی گزارتے ہیں اور ان کی نجی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات سامنے آتی ہیں۔

زینگ یامنگ 1983 میں چین کے صوبے فوجیان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین سرکاری ملازم تھے۔

ان کا نام ایک چینی کہاوت پر مبنی ہے، جس کا مطلب ہے پہلی کوشش میں ہر ایک کو حیران کرنا۔

انہوں نے 2005 میں نانکی یونیورسٹی سے سافٹ ویئر انجینئرنگ میں گریجویشن کیا۔ اسی دوران ان کی ملاقات اپنی اہلیہ سے ہوئی اور دونوں نے جلد شادی کرلی۔

زینگ یامنگ نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں کے بارے میں بتایا کہ 2005 میں گریجویشن کے بعد انہوں نے Kuxun نامی کمپنی میں ملازمت اختیار کی۔

ان کے مطابق وہ کمپنی کے ابتدائی ملازمین میں شامل تھے اور ابتدا میں ایک عام انجینئر کے طور پر کام کرتے تھے، تاہم ملازمت کے دوسرے ہی سال وہ 40 سے 50 افراد کی ٹیم کے انچارج بن گئے۔

زینگ یامنگ کے مطابق اس وقت وہ ٹیکنالوجی کے شعبے کے ذمہ دار تھے، لیکن جب کمپنی کی مصنوعات کو مسائل کا سامنا ہوا تو وہ پروڈکٹ پلاننگ میں بھی فعال طور پر شامل ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر افراد کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے، تاہم ان کا مؤقف تھا کہ ذمہ داری کا احساس اور کام کرنے کی خواہش انسان کو مختلف کام کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور اس طرح تجربہ بھی بڑھتا ہے۔

زینگ یامنگ کے مطابق کاروباری سرگرمیوں کا یہ تجربہ اور مختلف شعبوں میں کام کرنے کا موقع مستقبل میں اپنی کمپنیوں کو کامیاب بنانے میں ان کے لیے بہت مددگار ثابت ہوا۔

انہوں نے اپنے ایک اور تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں 2007 کے اختتام کا وقت یاد ہے، جب وہ سیلز ڈائریکٹر کے ساتھ ایک صارف سے ملاقات کے لیے گئے۔

ان کے مطابق اس تجربے سے انہیں یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ اچھی سیلز کیا ہوتی ہے۔ بعد میں جب انہوں نے اپنی کمپنی قائم کی اور ملازمین کی بھرتی شروع کی تو ماضی کے ایسے تجربات نے انہیں بہت مدد دی۔

بائیٹ ڈانس کا قیام

بائیٹ ڈانس کی بنیاد رکھنے سے پہلے زینگ یامنگ نے مائیکروسافٹ میں بھی ملازمت کی، تاہم انہوں نے اپنی کمپنی قائم کرنے کے لیے یہ ملازمت چھوڑ دی۔

2012 میں انہوں نے **بائیٹ ڈانس** کی بنیاد رکھی، جو آج دنیا بھر میں ٹک ٹاک کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی کے قیام کے ابتدائی عرصے میں زینگ یامنگ خود ٹک ٹاک زیادہ استعمال نہیں کرتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ طویل عرصے تک وہ ٹک ٹاک کی ویڈیوز کبھی کبھار ہی دیکھتے تھے اور کبھی ویڈیو پوسٹ بھی نہیں کرتے تھے، کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ یہ ایپ نوجوانوں کے لیے ہے۔

تاہم بعد میں کمپنی میں تمام ملازمین کے لیے ٹک ٹاک ویڈیوز بنانا اور مخصوص تعداد میں لائیکس حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا۔

زینگ یامنگ کے مطابق یہ فیصلہ ان کے لیے ایک بڑا قدم ثابت ہوا۔

بائیٹ ڈانس کی کامیابی اور ٹک ٹاک کی دنیا بھر میں مقبولیت کے ساتھ زینگ یامنگ کی دولت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور اب وہ گوتم اڈانی کو پیچھے چھوڑ کر ایشیا کے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔