گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث رہنے والی پاکستانی خاتون سیما حیدر جن سے متعلق کئی ایک نئے انکشافات سامنےآرہے ہیں۔
موبائل گیم پب جی کے زریعے اپنے چار بچوں کےہمراہ غیر قانونی طور پر نیپال کے راستے بھارت داخل ہونے والی سیما نامی خاتون نے اپنی محبت سچن سے شادی کی اور مذہب تبدیل کرلیا اور اب بھارت میں رہائش کیلئے سیما کاغذی کاروائی کی منتظر ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیما حیدر کو قانون کی نظر میں ایک ‘غیر قانونی مہاجر’ قرار دیا گیا ہے ، جس سے مراد ایک ایساغیر ملکی ہے جو یا تو پاسپورٹ اور ویزا جیسے درست سفری دستاویزات کے بغیر ملک میں داخل ہوتا ہے، یا پھر درست دستاویزات کے ساتھ ملک میں داخل ہوتا ہے، لیکن مقررہ مدت سے باہر رہتا ہے۔ غیر قانونی تارکین وطن کو ہندوستانی شہریت حاصل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
مزید یہ کہ غیر قانونی تارکین وطن کو غیر ملکی قانون اور پاسپورٹ (انٹری ان انڈیا) ایکٹ، 1920 کے تحت قید یا ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔ یہ دونوں ایکٹ مرکزی حکومت کو اختیار دیتے ہیں کہ وہ ہندوستان میں غیر ملکیوں کے داخلے، باہر نکلنے اور رہائش کو منظم کر سکے۔
اس کے علاوہ غیر ملکی قانون، 1946 ہندوستان میں غیر ملکیوں کے داخلے، موجودگی اور روانگی کو منظم کرتا ہے۔ یہ قانون حکومت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ غیر ملکیوں کے داخلے، قیام اور ان شرائط کے بارے میں قواعد بنائے جن کے تحت انہیں ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔
یہ دونوں ایکٹ ان اہم قوانین میں شامل ہیں جو اس وقت لاگو ہوتے ہیں جب کوئی پاکستانی شہری جعلی دستاویزات کے ساتھ غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ سیما حیدر کو سچن اور اس کے والد کے ساتھ 4 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر فارنرز ایکٹ اور تعزیرات ہند کی دفعہ 120 بی (مجرمانہ سازش) کے تحت الزام عائد کیا گیا تھا۔
جس کے بعد سیما حیدر کو 7 جولائی کو اس شرط پر ضمانت دے گئی کہ وہ عدالت سے پیشگی اجازت کے بغیر ملک سے باہر نہیں جا سکتیں۔ اگر وہ کسی بھی وقت اپنا پتہ بدلتی ہے تو انہیں عدالت کو بھی بتانا ہو گا۔









