بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پرویز خٹک کی پریس کانفرنس: سخت انتظامات، صحافیوں سے موبائل لے لیے گئے

سابق وزیر اعلٰی و وزیر دفاع پرویز خٹک نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے نکالے جانے کے بعد سیاسی مستقبل کے حوالے سے حکمت عملی تیار کرلی ہے اور اس حوالے سے پرویز خٹک ممکنہ طور پر پشاور کے جی ٹی روڈ جھگڑا میں واقع شادی ہال میں پریس کانفرنس کریں گے، جہاں تمام ترانتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شادی ہال میں میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور جگہ جگہ پولیس تعینات کر رکھی ہے، جو شادی ہال کے ارد گرد کسی کو کھڑا ہونے کی بھی اجازت نہیں دے رہی۔

پشاور: شادی ہال جہاں پرویز خٹک پریس کانفرنس کریں گے

پرویز خٹک کی پریس کانفرنس کے لیے سیکیورٹی انتظامات اس قدر سخت ہیں کہ صحافیوں کو بھی شادی ہال کے قریب نہیں جانے دیا جا رہا جبکہ پولیس نے 4 صحافیوں سے انکے موبائل بھی چھین لیے ہیں۔

ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ پرویز خٹک کے تمام اراکین کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں اور سابق اراکین نے ان کے ساتھ چلنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

پرویز خٹک کیا سر پرائز دینے والے ہیں

پرویز خٹک کے قریبی بتاتے ہیں کہ انہوں نے آزادانہ سیاست کا فیصلہ کیا ہے، تحریک انصاف سے اب وہ کسی بھی طرح  وابستہ نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے سابق اراکین کے علاوہ دیگر جماعتوں کے اراکین کی بھی حمایت انکو حاصل ہے اور وہ صوبائی سطح پر الگ جماعت بنا رہے ہیں جس کا وہ آج باقاعدہ اعلان کریں گے۔ پرویز خٹک 9 مئی کے بعد سے اہم ملاقاتیں کر رہے تھے، اور عید پرنوشہرہ آنے کے بعد کافی مصروف دکھائی دیے۔

پرویز خٹک کی اہم سرگرمیوں کے بارے میں ان کے چند قریبی ساتھیوں کے علاوہ کسی کو پتہ نہیں تھا کیونکہ وہ میڈیا سے دور رہتے ہیں۔ ان کی اکثر خبریں نوشہرہ کے مقامی صحافی کے ذریعے ہی آتی ہیں جو ان کے قابل اعتماد ہیں۔

پریس کانفرنس کب اور کہاں کریں گے

قریبی اور پرویز خٹک کی سرگرمیوں سے باخبرذرائع کا کہنا ہے کہ انکی تیاریاں مکمل ہیں، اہم لوگوں سے معاملات بھی طے پا گئے ہیں اور پریس کانفرنس کے انتظامات بھی ہو چکے ہیں۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ پریس کانفرنس کی ویڈیو اور پریس ریلیز میڈیا کو جاری کی جائے گی، سوالات سے بچنے کے لیے میڈیا کو مدعو نہیں کیا جائے گا۔

پرویز خٹک کا سیاسی سفر

73 سالہ پرویز خٹک نوشہرہ کے منکی شریف میں اس وقت کے نامور گورنمنٹ ٹھیکیدار کے ہاں پیدا ہوئے۔ پرویز خٹک نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز 1983 میں ممبر ڈسٹرک کونسل نوشہرہ سے کیا تھا جس کے بعد کامیابیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ ابتدا میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی سے منسلک تھے، پرویز خٹک وزیر آب پاشی اور 2 مرتبہ وزیر صنعت و پیداوار بھی رہے۔ سال 2013 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف سے ممبر خیبر پختونخوا منتخب ہوئے اور پی ٹی آئی کے پہلے وزیراعلٰی بن گئے۔

سنہ 2018 کے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور انہیں تحریک انصاف کی حکومت میں وزیر دفاع کا قلمدان دیا گیا۔ پرویز خٹک کو سیاسی جوڑ توڑ کا ماہر سمجھا جاتا ہے اور وہ عمران خان کے انتہائی قریبی تصور کیے جاتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ سیاسی فیصلوں میں وہ عمران خان کو مشورہ بھی دیتے تھے اور میٹنگز کے دوران کچھ معاملات پر کھل کر مخالفت بھی کیا کرتے تھے۔