یوں تو دنیا بھر میں ہر دور میں فراڈز ہوتے آئے ہیں، لوگوں کو چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے پیمانے پر فراڈ کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے مگر اس کے باوجود بھی فراڈ کا سلسلہ بند نہیں ہوا ہے، کبھی کبھی تو فراڈ کے قصے سن کر ایسا لگتا ہے کہ ’’واقعی نیک وہ ہے جسے موقع نہیں ملا۔‘‘
فراڈئیے شخص کا طریقہ کار ہمیشہ سے وہی رہا ہے کہ پہلے وہ اپنا بھروسا قائم کرتا ہے اور پھر جب اسے موقع ملتا ہے تو اچانک ہاتھ صاف کر جاتا ہے، اس سارے معاملے میں فراڈ کرنے والے کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ اس کا فراڈ پکڑا نہ جائے یا پھر اس پر الزام نہ آئے، لیکن ہر بار فراڈیا اس میں کامیاب نہیں ہوتا۔
امریکی کی سیلیکون ویلی میں بڑی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں آئے دن نئے تصورات پیش کرتی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سی کمپنیاں اپنی پراڈکٹ یا نظریئے کو بڑھا چڑھا کر بھی پیش کرتی ہیں۔
یسلا، اسپیس ایکس کمپنی اور اب ٹوئیٹر کے مالک ایلون مسک کی ہی مثال لے لیں کہ جب 2019ء میں وہ دنیا کے سامنے اپنے سائبر ٹرک کو بلٹ پروف بتا کر پیش کررہے تھے تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کا مذاق بننے والا ہے۔
ایلون مسک نے پورے اعتماد کے ساتھ سائبر ٹرک کے شیشے پر گولیوں کی بوچھاڑ کی اور بلٹ پروف ہونے کا دعوےدار ٹرک ایک گولی بھی برداشت نہیں کرسکا، خیر! ایلون مسک کی کہانی فراڈ پر مبنی نہیں، اس لیے ان کا ذکر ہم یہیں چھوڑتے ہیں۔
3فروری 1984ء میں واشنگٹن میں پیدا ہونے والی الزبتھ ہومز کے والد ’’اینرون‘‘ نامی انرجی کمپنی کے نائب صدر تھے، یہ کمپنی بعد میں بدعنوانی کے الزام میں بند ہوگئی تھی۔ الزبتھ کی والدہ امریکی سرکاری اداروں میں اہم عہدوں پر فائز رہیں۔
الزبتھ ہومز کا ددیال ڈینش تھا، ان کے پَردادا کے دادا چارلس لوئش فلائشمین نے 1860ء میں امریکا میں خمیر بنانے کی پہلی کمرشل فیکٹری قائم کی تھی، اور یہ خاندان اس دور میں امریکا کے چند امیرترین خاندانوں میں سے ایک تھا۔
الزبتھ ہومز نے بہت ہی کم عمر میں اپنے خاندان کی تاریخ کو اپنی شناخت کے طور پر پیش کرنے کا ہنر سیکھ لیا تھا۔
ابتداء میں الزبتھ ہومز نے چینی یونیورسٹیز کو سی پلس پلس پروگرام فروخت کرنا شروع کیا، پھر انہوں نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ لیا اور ساتھ ہی بطور لیبارٹری اسسٹنٹ کام شروع کیا، تاہم 19برس کی عمر میں 2002ء میں الزبتھ ہومز نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کو چھوڑ دیا۔
اس کے بعد 2003ء میں انہوں نے ’’تھیرانوس‘‘ نامی ہیلتھ ٹیکنالوجی کمپنی کی بنیاد رکھی جو اس بات کی دعویدار تھی کہ ان کے تیارکردہ جدید چھوٹے خودکار آلات کی مدد سے خون کے چند قطروں کے سیکڑوں ٹیسٹ بہت تیزی سے کیے جا سکتے ہیں۔
الزبتھ ہومز نے خود کو ’’ایپل‘‘ کے بانی اسٹیو جابز کی مداح قرار دیا اور اپنی گفتگو میں انہی کا انداز نقل بھی کیا۔
وہ اسٹیو جابز کی طرح سیاہ رنگ کی ٹی شرٹ پہنے رکھتی تھیں اور ہمیشہ مفکرانہ انداز میں بولتیں، 2010ء کے آخر تک الزبتھ ہومز نے اپنی کمپنی ’’تھیرانوس‘‘ کے لیے 60لاکھ ڈالرز فنڈ جمع کئے۔
الزبتھ اپنی کمپنی کی تمام تر معلومات انتہائی خفیہ رکھتی تھیں اور پریس ریلیز کے بغیر کمپنی سے متعلق کوئی بھی معلومات دستیاب نہیں ہوتی تھیں۔
2014 ء میں الزبتھ ہومز30 برس کی تھیں اور اس وقت وہ اپنے کیریئر کی بلندی پر پہنچ چکی تھیں، ان کی کمپنی کی مالیت 9 ارب ڈالرز تک پہنچ گئی تھی۔
امریکی وزیرِ خزانہ جارج شولٹز، میرین کور کے جنرل جیمز میٹس (جنہوں نے بعد میں ٹرمپ انتظامیہ میں خدمات سرانجام دیں) اور امریکا کے امیرترین خاندان والٹنز کے افراد بھی ان کے حمایتیوں میں شامل تھے، ان کی حمایت سے ان کے پراجیکٹ کو ساکھ ملی، ان کی کمپنی میں ہینری کسنجر سے لے کر روپرٹ مرڈوک جیسے بڑے لوگوں نے سرمایہ کاری کی تھی۔
فورچیون، فوربز، نیویارک ٹائمز، اسٹائل میگزین اور ایسے ہی دیگر بڑے امریکی مالیتی جریدوں کے سرورق پر الزبتھ ہومز کو شائع کیا گیا، فوربز نے الزبتھ ہومز کو سب سے کم عمر سیلف میڈ ارب پتی خاتون قرار دیا اور انہیں دنیا کے 400 امیرترین لوگوں کی فہرست میں 110نمبر پر شامل کیا۔
2014ء کے اختتام تک الزبتھ ہومز کی کمپنی کے نام پر امریکا میں 18 اور دیگر ممالک میں 66 پیٹنٹ رجسٹر ہوچکے تھے، تاہم اس تمام شان شوکت کے پیچھے جھوٹ کی بنیاد موجود تھی جس سے وہ درجنوں ارب پتی شخصیات بھی ناواقف تھیں جنہوں نے اپنے کروڑوں ڈالرز الزبتھ ہومز کی کمپنی میں کئی برس سے لگائے ہوئے تھے۔
2015 ء میں ایک وسل بلوئر نے ’’تھیرانوس‘‘ کی اہم ٹیسٹنگ ڈیوائس ایڈیسن کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔ اخبار ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ نے اپنی لاتعداد رپورٹس میں دعویٰ کیا کہ کمپنی کی طرف سے پیش کیے جانے والے نتائج ناقابل اعتبار ہیں اور یہ کہ کمپنی دوسرے مینوفیکچررز کی تیارکردہ تجارتی طور پر دستیاب مشینوں کو زیادہ تر ٹیسٹنگ کے لیے استعمال کررہی ہے۔
وال اسٹریٹ جنرل کے صحافی جان کیریرو نے خفیہ طور پر ’’تھیرانوس‘‘ کے بارے میں تحقیقات کیں اور یکے بعد دیگرے انکشافات سے بھرپور آرٹیکلز شائع کرنا شروع کئے۔
الزبتھ ہومز نے قانونی طور پر ان تحریروں کی اشاعت کو روکنے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ ناکام رہیں، مقدمات کے ڈھیر لگ گئے، شراکت داروں نے تعلقات منقطع کر دیئے اور 2016ء میں امریکی ریگولیٹرز نے الزبتھ ہومز پر دو سال کے لیے خون کی جانچ کی سروس چلانے پر پابندی عائد کر دی اور بالآخر 2018 ء میں ’’تھیرانوس‘‘ ختم کردی گئی۔
جاکیریرو نے 2018ء میں ہی ’’تھیرانوس‘‘ کے فراڈ پر ایک کتاب بھی شائع کی جس کا عنوان “Bad Blood: Secrets and Lies in a Silicon Valley Startup” تھا۔
اسی سال الزبتھ ہومز نے مالیاتی ریگولیٹرز سے دھوکا دہی سے سرمایہ کاروں سے 700 ملین ڈالر اکٹھے کرنے کے سول معاملات طے کر لیے تھے، تاہم انہیں اور ان کے ساتھی بلوانی کو وائر فراڈ اور وائرفراڈ کرنے کی سازش کے مجرمانہ الزامات کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔
ہومز نے ضمانت پر رہا ہونے کے بعد 2019 ء میں 27 سالہ ولیم ’بلی‘ ایونز کے ساتھ شادی کرلی جو ایونز ہوٹل گروپ کے وارثوں میں سے ایک ہیں، سال 2021ء جولائی میں ان کے ہاں ایک بیٹا بھی پیدا ہوا۔
گزشتہ دنوں الزبتھ ہومز کو سرمایہ کاروں کے ساتھ فراڈ کرنے کا جرم ثابت ہونے پر11 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
38 سالہ ہومز اور ان کے سابق کاروباری شریک اور ساتھی رمیش بلوانی کے خلاف 2018 ء میں فرد جرم عائد ہوئی تھی۔ ان پر وائر فراڈ کرنے کا الزام تھا۔ بلوانی کے خلاف الگ مقدمہ چلا جس میں ان کو فراڈ کے الزام میں قصوروار قرار دیا گیا۔ ان کی سزا کا فیصلہ اگلے ماہ ہوگا۔ عدالت میں الزبتھ ہومز نے کہا کہ وہ ان تمام لوگوں کے لیے درد رکھتی ہیں جو اُن کے فراڈ کی وجہ سے گمراہ ہوئے۔
امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں مقدمے کے دوران استغاثہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ہومز نے جانتے بوجھتے ہوئے ڈاکٹرز اور مریضوں کو اپنی ایڈیسن مشین کے بارے میں دھوکا دیا۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ہومز نے سرمایہ کاروں کے سامنے اپنی کمپنی کی صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ عدالت کی جیوری نے ان کے خلاف فراڈ کے چار الزامات کو درست قرار دیا جن میں 20 سال تک قید کی سزا ہوسکتی تھی۔ تاہم ان کے خلاف چار دیگر الزامات پر ان کو بری کردیا گیا۔ ہومز کو مجموعی طور پر11 الزامات کا سامنا تھا اور وہ عوام کو دھوکا دینے سے متعلق چار الزامات میں قصوروار نہیں پائی گئیں۔ عدالتی فیصلے کے تحت ہومز کو اپنی قید کی سزا کا آغاز27 اپریل 2023ء سے کرنا ہوگا تاکہ وہ پہلے اپنے دوسرے بچے کو جنم دے سکیں اور پھر جیل جائیں۔
عدالت میں مقدمے کے دوران استغاثہ کی جانب سے درخواست کی گئی کہ ہومز کو15 سال قید کی سزا کے ساتھ سرمایہ کاروں کو 800 ملین ڈالر واپس کرنے کا حکم دیا جائے جن میں سابق امریکی وزیردفاع جیمز میٹس بھی شامل ہیں جنہوں نے عدالت میں ان کے خلاف گواہی بھی دی۔ ہومز کی کمپنی میں سرمایہ کاری کرنے والوں میں سافٹ ویئر دنیا کا بڑا نام لیری الیسن بھی شامل ہیں۔ تاہم ہومز کا دفاع کرنے والے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ ان کی نیت غلط نہیں تھی اور وہ لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کررہی تھیں۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ہومز کو صرف 18 ماہ کے لیے گھر میں نظربندی کی سزا سنائی جائے۔
جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ہومز نے سرمایہ کاروں کو 121 ملین ڈالر کا نقصان پہنچایا جن میں امریکا میں وال مارٹ کا مالک خاندان اور روپرٹ مرڈوک بھی شامل ہیں۔ عدالت آئندہ تاریخ پر اس رقم کا تعین کرے گی جو ہومز کو واپس ادا کرنا ہو گی۔ دوسری جانب ہومز کے دوستوں، خاندان اور ’’تھیرانوس‘‘ کمپنی کے سابقہ ملازمین کی جانب سے جج کو ایک درخواست بھیجی گئی جس میں رحم کی اپیل کی گئی۔ انہوں نے لکھا کہ ہومز ایک ماں ہیں جن کا بیٹا جولائی2021 ء میں پیدا ہوا اور اس وقت بھی وہ حاملہ ہیں۔
ایک کتاب، ایچ بی او کی دستاویزی فلم اور آنے والی ٹی وی سیریز اور فلم کا موضوع ہونے کے باوجود، یہ ابھی تک واضح نہیں ہوسکا کہ الزبتھ ہومز نے ایسی ٹیکنالوجی پر جوا کیوں کھیلا جس کے بارے میں وہ جانتی تھیں کہ وہ کام نہیں کرے گی۔ سیلیکون ویلی کا کلچر ہے کہ اگر آپ ایک پُرعزم نوجوان ہیں اور کسی نئی کمپنی کی بنیاد رکھ رہے ہیں، جس کے پاس ابھی تیارشدہ پراڈکٹ موجود نہیں تو آپ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ سیلیکون ویلی میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اگر ’آئیڈیا‘ کو آگے بڑھانے والا شخص عمدہ ہے تو ٹیکنالوجی باقی کمی پوری کردے گی۔ الزبتھ ہومز خواب بیچنے میں ماہر تھیں۔ ان کا مسئلہ صرف یہ ہی تھا کہ وہ اپنے آئیڈیا کو عملی جامہ نہیں پہنا سکیں۔ سیلیکون ویلی میں تخلیقی حقوق کی کڑی حفاظت کی جاتی ہے خواہ وہ کوک نامی مشروب کو بنانے کا نسخہ ہو یا کسی چٹنی کی ترکیب۔ اسی سے کمپنی کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے آئیڈیاز کے بارے میں بہت حساس ہوتی ہیں۔ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے آئیڈیاز کو کوئی چُرا لے۔
ان کمپنیوں کی کامیابی کے لیے رازداری بہت اہم ہے لیکن رازداری کے اس کلچر کو دھوکا دہی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ’’تھیرانوس‘‘ جیسے اسکینڈل جنم لیتے ہیں۔ ’’تھیرانوس‘‘ نے سیاستدانوں، صحافیوں اور سرمایہ کاروں سب کو یہی بتایا تھا کہ خون کے چند قطروں سے سیکڑوں بیماریوں کی تشخیص کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ اگر کسی نے اس بارے میں مزید معلومات کا تقاضا کیا تو اسے بتایا گیا کہ ٹیکنالوجی ایک راز ہے اور اسے نہ تو ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی مزید وضاحت پیش کی جاسکتی ہے۔ سیلیکون ویلی کے کلچر میں راز سے پردہ اٹھانا بہت مشکل ہے۔ جب ’’تھیرانوس‘‘ ڈوب گئی تو اس کے ملازمین نے بتایا کہ ان پر کمپنی کے بارے میں منفی بات نہ کرنے اور خاموش رہنے کے لیے بہت دباؤ تھا۔ کمپنی نے اپنی شہرت کے تحفظ کے لیے مہنگے اور جارحانہ مزاج والے وکلا کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں۔ یہ سارا کاروبار ہی اعتبار پر چلتا ہے تو بعد میں آنے والے بڑے سرمایہ کار یہ سوچتے ہیں کہ شروع سے کمپنی میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے اچھی طرح دیکھ بھال کرلی ہوگی۔ ’’تھیرانوس‘‘ بالاخر پکڑی گئیں لیکن سیلیکون ویلی میں نئی کمپنیوں پر نگرانی کا نظام اتنا سخت نہیں۔ اسی ماڈل پر بنائی گئی کئی کامیاب اور جدید کمینیاں وجود میں آچکی ہیں لیکن اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ ’’تھیرانوس‘‘ جیسی اور کمپنیوں کے سامنے آنے کے عوامل اب بھی موجود ہیں۔
گزشتہ برس سیلیکون ویلی کی فون ایپ کمپنی ’ہیڈسپن‘ کے سی ای او منیش لچوانی کو دھوکا دہی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
الزبتھ ہومز کو ہونے والی سزا سیلیکون ویلی میں لوگوں کے لیے ایک تنبیہہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو دھوکا دینے کے نتائج اصل زندگی پر بھی ہو سکتے ہیں جبکہ اس سارے معاملے سے بڑی کمپنیز کے سرمایہ کاروں کو بھی سوچنے کا موقع ملا ہے کہ آئندہ وہ کسی بھی نئی کمپنی پر آنکھ بند کرکے پیسہ لگانے سے پہلے اچھی طرح جانچ کرلیں۔









