نامور دانشور، لکھاری اور ٹی وی شخصیت انور مقصود کے بیٹے اور مشہور میوزک بینڈ سٹنگز کے بانی رُکن بلال مقصود نے اپنے والد کے نام سے کی جانے والی جعلی ٹویٹس پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انور مقصود اکثر اپنے بیانات اور تقاریر میں سیاست دانوں اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو طنز و مزاح کا نشانہ بناتے ہیں جس کے باعث عوام کی کثیر تعداد انہیں پسند کرتے ہیں، تاہم سوشل میڈیا بالخصوص سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اُن کے نام سے بننے والے جعلی اکاؤںٹ اور اُن سے کی جانے والی جعلی ٹویٹس دانشور اور ان کے بیٹے کے لیے دردِ سر بن چکی ہیں۔
These kinds of fake tweets only put my Abbu’s life in danger. This guy has already blocked me. Please can you all report this account. Abbu does not post anything on social media. His actual account has only 3 posts. We made that account so we can report all the fake ones. pic.twitter.com/BP5G749sEy
— Bilal Maqsood (@bilalxmaqsood) July 19, 2023
بدھ کے روز بلال مقصود نے اپنے والد کے نام سے کی جانے والی ٹویٹس کے سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایسے فیک ٹویٹس کی وجہ سے میرے والد کی زندگی خطرے میں پڑتی ہے۔ اس شخص (جس نے انور مقصود کے نام سے جعلی اکاؤںٹ بنایا ہوا ہے) نے مجھے پہلے سے ہی بلاک کیا ہوا ہے۔ براہ کرم کیا آپ سب اس کا اکاؤںٹ رپورٹ کر سکتے ہیں؟ ابو سوشل میڈیا پر کچھ بھی پوسٹ نہیں کرتے۔ اُن کے اصلی الائونٹ سے صرف تین پوسٹس کی گئی ہیں۔ ہم نے اس وجہ سے اکاؤںٹ بنایا تاکہ ہم جعلی اکاؤںٹس کو رپورٹ کر سکیں۔‘
اس سے قبل 2020 میں انور مقصود نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا تھا کہ ٹوئٹر پر اُن کا صرف ایک ہی اکاؤنٹ ہے۔
دوسری جانب بلال مقصود نے کچھ عرصہ قبل فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ انور مقصود نوکیا کا سادہ یعنی بٹن والا فون استعمال کرتے ہیں۔
سنگر بلال مقصود کی اپنے والد کے بارے میں ٹویٹ پر صارفین کے تبصرے بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
فاریا کاشف نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’براہ کرم ایسے سینیئرز کو ایسے گند میں مت گھسیٹیں۔‘
زنیرہ اظہر اپنی ٹویٹ میں لکھتی ہیں کہ ’فیک نیوز/اکاؤنٹس کسی کی زندگی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر کچھ بھی ریٹویٹ یا شیئر کرنے سے پہلے اس کی یقین دہانی کر لیں۔‘
ارم عظیم فاروقی کہتی ہیں کہ ’انور صاحب نے کئی مرتبہ باضابطہ طور پر بتایا ہے کہ ان کا کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے لیکن یہ جعلی اکاؤنٹ ایسے شیئر کیے جاتے ہیں جیسے ان کے اپنے ہوں۔‘









