ڈیرہ غازی خان پنجاب کی ایک ڈویژن ہے، پہلے یہ ملتان ڈویژن کا ایک ضلع تھا۔ یکم جولائی 1982ء کو اسے ڈویژن بنا کر اس میں چار اضلاع شامل کئے گئے یعنی خود ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، لیّہ اور راجن پور۔
اس علاقے کی تاریخ خاصی پُرانی ہے۔ 750ء تک عربوں کے زیرِ تسلط رہا۔ 1445ء میں لنگاہ خاندان کے تحت رہا۔ شہر ڈیرہ غازی خان ایک مقتدر بلوچ سردار میر حاجی میرانی نے اپنے بیٹے غازی خان کے نام پر 1476ء میں آباد کیا تھا۔ 1739ء میں نادر شاہ نے حملہ کیا۔ 1747ء میں نادر شاہ کے قتل پر اس پر احمد شاہ ابدالی قابض ہوا۔ 1819ء میں راجا رنجیت سنگھ کا قبضہ ہوا۔ 1849ء میں انگریزوں کا قبضہ ہوگیا۔
ضلع ڈیرہ غازی خان کے شمال میں ڈیرہ اسماعیل خان اور جنوبی وزیرستان، مشرق میں ضلع مظفرگڑھ اور جنوب میں ضلع جیکب آباد اور سکھر کے اضلاع اور مغرب میں کوہ سلیمان اور کوئٹہ ڈویژن ہیں۔ میدانی اور پہاڑی علاقوں میں آب و ہوا خشک ہے۔ فورٹ منرو یہاں کا بُلندترین مقام ہے۔ تونسہ اور راجن پور میں جنگلات کے بڑے بڑے ذخائر ہیں۔ ضلع میں 19 بڑے صنعتی یونٹ ہیں۔ کپاس اونٹنے، بناسپتی گھی، تیل، کپڑا اور چاول چھڑنے کے متعدد کارخانے ہیں۔
اب پختہ پُل کے ذریعے غازی گھاٹ کو مظفر آباد سے ملادیا گیا ہے۔ ریلوے لائن کی تعمیر سے ضلع کے اہم قصبے جام پور، مٹھن کوٹ، تونسہ وغیرہ آپس میں مل گئے ہیں۔ ضلع کی مجموعی آبادی سولہ لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہاں گورنمنٹ کالج، گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج (خواتین) ڈویژنل پبلک اسکول، گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی وغیرہ متعدد تعلیمی ادارے ہیں۔ حضرت سخی سرور، حضرت خواجہ سلیمان تونسوی، حضرت دین پناہ، حضرت پیر عادل شاہ اور زندہ پیر کے مزارات اسی ضلع میں ہیں۔
شہر ڈیرہ غازی خان دریائے سندھ کے دائیں کنارے کے نزدیک، ملتان کے مغرب میں 60 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسے 1480ء میں حاجی خان میرانی نے اپنے بیٹے غازی خان کے نام پر قائم کیا۔ غازی خان اوّل کے بعد اس علاقے پر ان کی چودہ نسلوں نے حکمرانی کی جس کے بعد یہاں محمود خان گجر کی چار پشتوں کی عمل داری قائم رہی۔ احمد شاہ ابدالی کے مقرر کردہ گورنر نجیب اللہ کے دور میں اس شہر کی اَزسرِنو آرائش و تزئین کی گئی۔ نجیب اللہ نے یہاں اس قدر باغات اور پھولوں کے پودے لگائے کہ لوگ اس شہر کو ’’دیرہ پُھلاں دا سہرا‘‘ کہنے لگے تھے۔
1909ء میں یہ شہر دریا کے کٹائو کی زَد میں آ گیا۔ دریاد بُرد ہونے کے بعد موجودہ شہر کی بنیاد دریا سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر رکھی گئی۔ پُرانی جگہ اب چورہٹہ کہلاتی ہے۔ یہاں غازی خان اوّل کا مقبرہ پہلے سے موجود تھا۔ اس شہر کو یہ فخر حاصل ہے کہ پاکستان کا نام سب سے پہلے اسی جگہ لیا گیا۔ لفظ ’’پاکستان‘‘ کے خالق اور تحریک پاکستان کے رہنما چوہدری رحمت علی 1930ء سے کچھ پہلے، ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقے ’’روجھان‘‘ میں مزاری اسٹیٹ کے مشیر اور مزاری برادران (بلخ شیر مزاری اور شیرباز مزاری) کے اتالیق کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے۔ نیز ڈیرہ غازی خان کے ایک معروف صحافی شیر محمد نے 1934ء ہی میں اپنے نام کے ساتھ ’’پاکستانی‘‘ لکھا۔ قومی یادگار کی حیثیت سے ’’پاکستانی چوک‘‘ تعمیر کیا گیا۔ یونینسٹ حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز اسی چوک سے ہوا تھا۔
ڈیرہ غازی خان کی آبادی اس وقت ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ مختلف برادریوں میں جٹ، گجر، پٹھان، سیّد، آرائیں، راجپوت، شیخ، کھوسہ، لغاری، بودلہ، کھوجہ، احمدانی، مزاری، بگٹی اور کورائی شامل ہیں۔ تعلیمی ضروریات کے لیے طلبا اور طالبات کے لیے دو علیحدہ علیحدہ ڈگری کالج اور دو انٹرکالج موجود ہیں۔ دینی مدارس میں مدرسہ قاسم العلوم، جامعہ نظامیہ محمدیہ، رضویہ امام بارگاہ، دارالعلوم عبیدیہ نقشبندیہ مشہور ہیں۔ شہر میں کئی خُوبصورت عمارتیں ہیں۔ عجائب گھر، ریلوے اسٹیشن، غازی خان کا مقبرہ اور ٹینس کورٹ کی عمارت قابلِ دید ہیں۔









