اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عمران خان کا خواب القادر یونی ورسٹی کا منصوبہ تاحال زیر التواء ہے۔ اس حوالے سے ایک ٹرسٹی ڈاکٹر عارف نذیر بٹ کا کہنا ہے کہ ٹرسٹ کو یونی ورسٹی درجہ دینے کی شرائط پوری کردی ہیں اور درخواست ایچ ایس سی پنجاب میں ہے۔ تفصیلات کے مطابق، القادر یونی ورسٹی کی تعمیر اور افتتاح عمران خان کے ہی دور حکومت میں ہوا تھا تاہم، یہ اب تک 37 طلباء پر مشتمل کالج ہی ہے حالاں کہ اسے لاکھوں روپے کے عطیات موصول ہوچکے ہیں۔ ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اس ادارے کے اصل ٹرسٹیز عمران خان، بشریٰ خان، ذوالفقار عباس بخاری اور ظہیر الدین بابر اعوان تھے۔ بعد ازاں زلفی بخاری اور بابر اعوان کو ٹرسٹ سے نکال کر ان کی جگہ ڈاکٹر عارف نذیر بٹ اور مسز فرحت شہزادی کو ٹرسٹیز بنایا گیا۔ القادر مینجمنٹ کے مطابق یہ یونی ورسٹی ہے لیکن ایچ ای سی پنجاب اسے تسلیم نہیں کرتا۔ یہاں صرف بی ایس۔ مینجمنٹ کی تعلیم کی اجازت ہے جو زیادہ سے زیادہ 50 طلباء انرول کرسکتا ہے اور اس کا الحاق گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی پنجاب سے ہے۔ جنوری، 2021 سے دسمبر، 2021 کے درمیان ٹرسٹ کو 18 کروڑ روپے کے عطیات موصول ہوئے۔ جب کہ جولائی 2020 سے جون، 2021 تک ٹرسٹ کی آمدنی 10 کروڑ 10 لاکھ روپے تھی۔ جب کہ اسٹاف کی مجموعی تنخواہ سمیت دیگر اخراجات 85 لاکھ 80 ہزار روپے تھے۔ القادر یونی ورسٹی کو 458 کنال زمین عطیہ میں ملی، جس کی مالیت 24 کروڑ 40 لاکھ روپے تھی۔ زمین پہلے زلفی بخاری کو منتقل کی گئی جنہوں نے بعدازاں اسے ٹرسٹ کو منتقل کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عطیہ کی گئی زمین کو تسیم کرنے کے معاہدے پر دستخط مسز بشریٰ خان اور پرائیویٹ کمپنی نے کیے جب کہ عمران خان چیئرمین عبدالقادر یونی ورسٹی اس وقت وزیراعظم پاکستان تھے۔ اس نمائندے کے پاس اس ضمن میں تمام دستاویزات موجود ہیں۔ عطیہ کنندہ کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ اس نے القادر یونی ورسٹی پروجیکٹ ٹرسٹ کے مقصد کے لیے ہی زمین خریدی تھی۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے کہ معاہدے کے تحت وہ القادر یونی ورسٹی کے قیام اور جاری امور کے اخراجات اٹھائے گا۔ جب کہ القادر پروجیکٹ کے قیام کے لیے بھی رقم فراہم کرے گا۔ پنجاب ایچ ای سی کے مطابق القادر انسٹیٹیوٹ جہلم نے یونی ورسٹی کا درجہ دینے کی درخواست دی تھی اس میں کچھ دستاویزات نہیں تھےمثلاً ایچ ای سی مساوی سرٹیفکیٹس برائے فیکلتی ممبرز موجود نہیں تھے۔ جب کہ پنجاب ایچ ای سی نے فنانشل اور نان فنانشل تفصیلات کے ساتھ آڈٹ رپورٹ بھی طلب کی تھی، جب کہ اس سے قبل جمع کی گئی آڈٹ رپورٹ کو ناکافی قرار دیا تھا۔ جس پر ڈاکٹر عارف نذیر بٹ کا کہنا تھا کہ ڈگری دینے والے ادارے کی حیثیت کے لیے پنجاب ایچ ای سی کو پہلے رول کے مطابق کالج کا الحاق پہلے سرکاری یونی ورسٹی سے کرنا ہوتا ہے۔ ہم نے 2021 میں گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی سے الحاق کیا تھا۔ جس کے تحت ہمیں بی ایس مینجمنٹ سائنسز برائے سال 2021 کے لیے 50 سیٹوں کے ساتھ اجازت دی گئی۔ جس کے بعد میرٹ پر ایڈمیشن کمیٹی نے طلباء کا انتخاب کیا اور انہیں اعلیٰ تعلیم فراہم کی گئی۔ ڈاکٹر عارف نذیر بٹ کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ نے ڈگری دینے والا ادارہ بننے کے لیے مختصر مدت میں تمام ضروریات پوری کیں اور حکومت پنجاب سے درخواست کی کہ وہ ڈگری دینے کی حیثیت دے۔ یہ درخواست ابھی زیر التواء ہے۔ جیسے جیسے ادارہ وسعت اختیار کرے گا اس میں مزید شعبوں کو شامل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ 2020 کے آخر میں القادر ٹرسٹ کی مینجمنٹ کمیٹی کے رکن بنے اور دسمبر 2021 میں وہ مسز فرحت شہزادی کے ساتھ ٹرسٹی بنے۔ ان سے جب سوال کیا گیا کہ جب تمام اخراجات رئیل اسٹیٹ سے وابستہ ایک بڑا تعمیراتی ادارہ اٹھارہا ہے تو ٹرسٹ اضافی عطیات کیوں موصول کررہا ہے اور طلباء سے ٹیوشن فیس کیوں وصول کی جارہی ہے۔
عمران خان کا خواب القادر یونی ورسٹی کا منصوبہ زیر التواء








