انقر(مانیٹرنگ ڈیسک)ترکیہ کے معروف شیف بوراک اوزدیمیر کے اپنے والد پر فراڈ کے الزام کے بعد ان کے والد نے اسماعیل اوزدیمیر نے جواب دے دیا۔ اسماعیل نے بیٹے کے علم میں لائے بغیر اس کے نام کو غیر ملکی تاجر کو 41 ملین ڈالر میں فروخت کرنے کے الزام کی تردید کردی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق شیف بوراک کا اپنے والد اسماعیل سے مہینوں پہلے چھ فروری کو جھگڑا پیدا ہوا تھا۔ گزشتہ دنوں بوراک نے والد پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کردیا۔ والد نے اب اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرا بیٹا مجھ پر الزام تراشی پبلسٹی اور شہرت کے لیے کر رہا رہے۔ بوراک ملک میں زلزلہ سے ہونے والی انسانی تباہی کو بھی غلط طریقے سے نفع حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
معروف شیف کے والد اسماعیل اوزدیمیر نے ترکیہ کے الیکٹرانک پلیٹ فارم ’’او ڈی اے ٹی وی ‘‘ کی طرف سے رپورٹ کیے گئے بیانات میں کہا کہ ان کے بیٹے نے تقریباً 6 ماہ قبل ملک میں آنے والی قدرتی آفت کو بھی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس نے پروپیگنڈے کے مقصد سے زلزلہ متاثرین کو مدد فراہم کی۔ وہ زلزلہ زدگان کی مدد اپنے دل سے نہیں بلکہ کاروبار کی تشہیر کے لیے کر رہا تھا۔
بوراک کے والد نے اپنی بیوی کو بھی مخاطب کیا اور کہا کہ بیٹے نے اپنی ماں کے جینز سے ہی یہ صفت حاصل کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا دھوکہ دہی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا میں تقریباً دو سال قبل واقعی بدل گیا تھا۔
والد اور بیٹے کے درمیان تنازع عدالت تک پہنچ گیا ہے۔ پہلا عدالتی سیشن ستمبر کے اوائل میں استنبول میں شروع ہونے والا ہے۔ ستمبر میں ہی ترک شیف بوراک استنبول میں اپنے نئے ریسٹورنٹ کھولنے والے ہوں گے۔
مقامی ترک میڈیا نے بتایا کہ مشہور ریسٹورنٹ چین کی ملکیت تقریباً 40 سال قبل ترک شیف کے والد کے نام پر رجسٹرڈ تھی اور اسی وجہ سے وہ اسے ایک غیر ملکی تاجر کو 41 ملین ڈالر میں فروخت کرنے میں کامیاب ہوئے۔
فراڈ کا الزام ، معروف ترک شیف کے والد نے حقائق سے پردہ اٹھادیا







