بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پڑوسی ممالک ایران پر حملوں کیلئے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دیں: پزشکیان

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک ایران کے بھائی اور پڑوسی ہیں، انہیں اپنی سرزمین سے ایران پر حملوں کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
ایک انٹرویو میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کو متحدہ عرب امارات یا خطے کے کسی دوسرے ملک سے کوئی مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ہیں جہاں سے ایران پر حملے کیے جاتے ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا ہی خطے میں داخل ہوا ہے، جبکہ ایران تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے، ان کے مطابق امریکا خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے سے روکنا چاہتا ہے، پٹرولیم ذخائر اپنے استعمال میں لانا اور ہتھیار و میزائل فروخت کرکے خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔

مسعود پزشکیان نے علاقائی سکیورٹی کے لیے خطے کے ممالک کو مل کر کام کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک کو بیٹھ کر مشترکہ طور پر امن و استحکام کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔

پاکستان کے حوالے سے ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان ایک دوست ہمسایہ ملک ہے جس نے امن کے لیے بہت مدد کی، جبکہ قطر نے بھی اس سلسلے میں معاونت کی، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد دوبارہ مذاکرات کا مطالبہ سمجھ سے باہر ہے، کیونکہ مفاہمتی یادداشت میں امریکی پابندیاں ختم کرنے کی بات شامل تھی اور امریکا کو یہ پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔

جنگ اور جوہری معاملات پر بات کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ جنگ ایران نے شروع نہیں کی، جارحیت کا خاتمہ امریکا کو کرنا ہوگا۔ جوہری معاملات پر مذاکرات کے لیے ایران تیار ہے، تاہم امریکا سے براہِ راست مذاکرات کے حوالے سے ایران میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

ایرانی صدر نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے ایرانی عوام کے دلوں میں بسنے والے رہنما کو قتل کیا، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے کہا کہ امریکا پہلے دن سے ایرانی حکومت گرانا چاہتا ہے۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے تنازع پر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کی سعودی عرب سے کوئی جنگ نہیں، حوثیوں کے اپنے مسائل ہیں۔

انہوں نے ایک بار پھر علاقائی ممالک پر زور دیا کہ امن و استحکام کے لیے مل بیٹھ کر مشترکہ حکمتِ عملی بنائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یورپی ممالک اپنی سکیورٹی اور تجارت کے لیے مل کر قوانین بناسکتے ہیں تو خطے کے ممالک ایسا کیوں نہیں کرسکتے۔

ایران کے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق ایرانی صدر نے کہا کہ سپریم لیڈر زندہ ہیں اور پہلے کی طرح نظام کے اندر اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں:پنجاب میں 13 تا 17 ستمبر دفعہ 144 نافذ، اجتماعات و مظاہروں پر پابندی

ان کے مطابق دشمن سپریم لیڈر کے ٹھکانے کا سراغ لگانے میں ناکام رہا، اسی لیے مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں، جبکہ دشمن ایران کے نئے سپریم لیڈر کو بھی نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔