اسلام آباد(طارق محمود سمیر) حکومت نے آرمی ایکٹ میں ایک اہم ترمیم منظوری کرا لی ہے اور اس ایکٹ میں جو ترامیم کی گئی ہیں اس میں فوج میں اہم عہدوں پر تعینات افسران ریٹائرمنٹ کے بعد 5سال تک سیاست میں حصہ نہیں لے سکیںگے اور اہم اور خفیہ معلومات ظاہرکرنے پر سخت سزائیں دی جائیںگی۔ اس ترمیم میں سب سے اہم بات سوشل میڈیا پر فوج کو تنقیدکا نشانہ بنانے کو جرم قرار دیتے ہوئے اسے الیکٹرانک کرائم کے زمرے میں شامل کرنا ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف جو ان دنوں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے حامیوں کی شدید تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں نے یہ انتہائی اہم بل جمعرات کو سینیٹ سے پاس کرایا اور خواتین سینیٹرزکو تنقیدکا نشانہ بنانے کے معاملے پرکی جانے والی تنقیدکا موثر انداز میں جواب دیا۔ آرمی ایکٹ میں جو ترامیم کی گئی ہیں ان کی 9مئی کے واقعات کے بعد ضرورت محسوس کی جارہی تھی کیونکہ 9مئی کے واقعات میں ملوث تحریک انصاف کے حامیوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کا فیصلہ ہوا جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا اور عدالتوں سے بھی ریلیف ملے ، فوج کو بدنام کرنے کے معاملے میں شہبازگل کیخلاف ایک مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے ۔شہبازگل نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں بہت متنازعہ باتیںکی تھیں جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ وہ قومی اداروں میں تقسیم کرانا چاہتے ہیں اور اسی بنا پر انہیںگرفتارکیا گیا لیکن بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کا نام ای سی ایل سے نکالا اور ہمارے قومی ادارے اور حکومت دیکھتی رہ گئی اور شہبازگل امریکہ جاکر اب روز شعلہ بیانی کرتے ہیں اور ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں جوکسی زمانے میں حسین حقانی کیا کرتے تھے۔ شہبازگل کو عدالت نے اشتہاری تو قرار دے دیا لیکن جن جج صاحب نے ان کا نام ای سی ایل سے نکالاکیا کوئی ان سے سوال کرسکتا ہے ، سوال کرنے پر توہین عدالت ہوتی ہے، فوری طور پر 6 ماہ قیدکی سزا سنا دی جاتی ہے لیکن ایک ایسا ملزم جس نے فوج کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کی اس کا نام ای سی ایل سے نکالنا درست فیصلہ نہیں تھا۔ آرمی ایکٹ میں یہ ترمیم بھی کی گئی ہے کہ سرکاری حیثیت میں ملکی سالمیت اور مفاد میں حاصل معلومات کے غیر مجاز انکشاف پر 5سال قیدکی سخت سزا ملے گی اور آرمی چیف یا بااختیار افسرکی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں دی جائے گی۔ اس ترمیمی بل میں پاکستان اور مسلح افواج کے مفادکیخلاف انکشاف کرنے والے کیخلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلے گا، بل کے مسودے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ حساس ڈیوٹی پر تعینات شخص 5سال تک کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکے گا اور خلاف ورزی پر دو سال قیدکی سزا ہوگی۔بل میں فوج کو بدنام کرنے اور اس کیخلاف نفرت پھیلانے پرآرمی ایکٹ کے تحت دو سال قید اور جرمانے کی سزا ہو سکے گی، یہ ترامیم اب منظوری کے لئے قومی اسمبلی میں آئندہ ہفتے پیش کی جائیں گی اور وہاں سے منظوری کے بعد صدر عارف علوی کے دستخط ہوتے ہی یہ قانون بن جائے گا تاہم اگر اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ نے اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا اور وہاں سے حکم امتناعی آگیا تو پھر حکومت کے پاس کوئی آپشن نہیں ہوگا کیونکہ اسمبلی 9اگست کو توڑ دی جائے گی اور نگران حکومت کے دور میں قانون سازی پارلیمنٹ کے ذریعے نہیں ہو سکتی، صرف آرڈیننس کے ذریعے ہی قانون نافذکئے جاسکیں گے۔ دریں اثناء نگران حکومت کی تشکیل کیلئے مشاورت کا عمل تیز ہو گیا ہے اور اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے ابتدائی مشاورت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اس بات کا واضح اشارہ دیا ہے کہ جس شخصیت کو وہ نامزد کریں گے وہ نگران وزیراعظم ہوگی اور ان کا یہ فقرہ سب سے اہم ہے کہ نگران وزیراعظم ماہر معیشت اور سینئر سیاستدان ہو سکتا ہے ۔ روزنامہ ممتاز کی معلومات کے مطابق راجہ ریاض ن لیگ کے سینئر رہنما اور وزیرخزانہ اسحاق ڈارکو نگران وزیراعظم کے طور پر نامزد کریں گے اور وہ تحریری طور پر یہ تجویز وزیراعظم شہبازشریف کو دیںگے اور اس بارے میں ن لیگ اور راجہ ریاض کے درمیان معاملات طے ہو رہے ہیں اور اس طرح پیپلزپارٹی اور جے یو آئی سمیت دیگر اتحادی جماعتیں جو اسحاق ڈار کے نام پر تنقید کر رہی ہیں انہیں (ن)لیگ یہ کہہ سکے گی کہ اسحاق ڈارکا نام تو (ن) لیگ نے تجویز نہیں کیا بلکہ یہ نام تو اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی طرف سے آیا ہے ۔اس وقت پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوںکا ردعمل کیا ہوگا یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ راجہ ریاض نے جو ابتدائی مشاورت تحریک انصاف کے اپنے گروپ سے کی ہے اس میں یہ طے پایا ہے کہ جو بھی نام راجہ ریاض وزیراعظم کو تین نام تجویز کرے گے ۔پیپلزپارٹی کے رہنما وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے کہا کہ ابھی تک(ن) لیگ یا کسی اور جماعت کی طرف سے باضابطہ طور پر نگران وزیراعظم کے لئے کوئی نام نہیں لیا گیا۔آئندہ ہفتے نگران وزیراعظم کے معاملے پر صورتحال واضح ہو جائے گی، اسحاق ڈارکا نام ابھی بھی فہرست میں موجود ہے گوکہ ن لیگ کے بعض سینئر وزراء اور ارکان اسمبلی کی اکثریت کی یہ رائے ہے کہ اسحاق ڈار کو نگران وزیراعظم نہیں ہونا چاہئے ، اسحاق ڈارکے نگران وزیراعظم بننے کی صورت میں الیکشن میں پارٹی کو سیاسی طور پر نقصان ہوگا۔
مشاورتی عمل تیز، نگران وزیراعظم کون؟ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے بڑی خبر آنے کی توقع








