خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین کی موجودگی ناگزیر ہے۔ اگرچہ پاکستانی آئین میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے لیکن ان قوانین کی تشریحات اور عملدرآمد کے مسائل کی وجہ سے خواتین کو مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ اغوا، ریپ، ہراسانی، کم عمری میں شادی، جائیداد میں حق نہ دینا اور لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنا آج بھی ہمارے معاشرے کے اہم المیے ہیں۔ جس بات کو سب سے زیادہ کم زیر بحث لایا جاتا ہے وہ ہے پاکستان کے آئین میں عورتوں کے کون کون سے حقوق شامل ہیں اور خواتین ان کے ذریعے کس طرح اپنے حقوق حاصل کرسکتی ہیں اور ان حقوق کی پامالی کرنے پر مجرم کن سزاؤں کا مستحق ہوسکتا ہے۔
پاکستان کے آئین اور پینل کوڈ کے مطابق تعلیم حاصل کرنا بچے کا آئینی اور بنیادی حق ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ دیکھا گیا ہے کہ عام طور پر والدین اپنی بچیوں کو تعلیم سے محروم رکھتے ہیں۔ آئین پاکستان کی شق 25-A کے مطابق ریاست 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی معیاری تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے۔ پاکستان میں اگر لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم کا موازنہ کیا جائے تو ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 22.5 ملین بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں، جن میں خاص طور پر لڑکیاں متاثر ہیں۔ 32 فیصد پرائمری اسکول جانے والی عمر کی لڑکیاں اسکول نہیں جاتیں جبکہ 21 فیصد اسی عمر کے لڑکے بھی اسکول نہیں جاتے۔ چھٹی جماعت تک 59 فیصد لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں۔ اس کے مقابلے میں 49 فیصد لڑکے اسکول نہیں جاتے۔ نویں جماعت میں صرف 13 فیصد لڑکیاں اسکول جاتی ہیں۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی اسکول نہ جانے کی تعداد ناقابل قبول ہے۔ لیکن لڑکیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

پاکستان کے آئین کے مطابق کوئی لڑکا جس کی عمر 18 سال سے کم ہو اور لڑکی جس کی عمر 16 سال سے کم ہو رشتہ ازدواجیت میں نہیں بندھ سکتے۔ پاکستان پینل کوڈ1860 کے مطابق بغیر رضامندی اور زبردستی کی شادی غیر قانونی ہے۔ اس کے برعکس چھوٹی عمر میں بچیوں کی شادیاں ایک بہت عام رواج ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں یہ شادیاں مختلف مقاصد کے تحت کی جاتی ہیں۔ جس میں جائیداد کی حصولی، اولاد، زمیندارانہ نظام اور دیگر وجوہات شامل ہیں۔ جب کے پاکستان کا قانون کہتا ہے کہ ایسی کسی شادی کو کروانے والے افراد کو سزا دی جاے گی، جس میں 3 سے 5 سال کی قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ شامل ہے۔
پاکستانی معاشرے میں خواتین کو اکثر جائیداد سے بے دخل کردیا جاتا ہے اور ان کو ان کا شرعی اور قانونی حق نہیں دیا جاتا۔ لیکن پاکستان کا آئین اس بارے میں بالکل واضح طور پر عورتوں کو ان کا جائیداد میں حق دیتا ہے۔ فروری2020ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی اور ایوان بالا یعنی سینیٹ نے بھی جائیداد میں خواتین کے حق کے تحفظ کا بل منظور کر لیا تھا، جسے ’انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2020‘ کہا جاتا ہے۔ قانون کے مطابق خواتین کو جائیداد میں اپنا حصہ حاصل کرنے کا حق ہوگا۔
تعزیرات پاکستان دفعہ 376 اور 375 کے مطابق کسی شخص کو ریپ کا مرتکب کہا جائے گا اگر وہ کسی خاتون (یا بچی) سے اس کی مرضی کے بغیر زبردستی، قتل یا ضرر کا خوف دلاکر زنا بالجبر کرے۔ ایسے میں عورت قانونی طور پر یہ حق رکھتی ہے وہ اس مرد کے خلاف قانونی چارہ جوئی اختیار کرے۔ جس کے نتیجے میں مرد کو پاکستان کے قانون کے تحت سزا دی جائے گی۔ اس جرم کے مرتکب شخص کو سزائے موت یا کم سے کم 10 سال اور 25 سال قید کی سزا سنائی جائے گی جس کے ساتھ وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
ہراسانی کے خلاف قانون:ہراسانی کے معنی پینل کوڈ کے مطابق یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی خاتون کی عزت مجروح کرنے کی کوشش کرے، جس میں جملے کسنا، ایسی آواز منہ سے نکالنا جو خاتون کو تکلیف پہنچائے یا اس کو ہراساں کرے یا جنسی تعلقات میں الفاظ سے زبردستی کرے خواہ یہ گھر میں ہوں یا دفاتر میں، ایسا شخص سزا کا مرتکب ہوگا۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ہراسانی کی سزا 3 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ جو خواتین ان حالات سے گزرتی ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ قانونی ذرائع سے انصاف طلب کریں۔








