لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پنجاب اسمبلی میں جو کرائسز پیداہوئے اس کے ذمہ دار کون تھے سب کو پتہ ہے۔شہبازشریف کے کہنے پر پولیس پنجاب اسمبلی میں داخل ہوئی۔پنجاب اسمبلی میں سارا مسئلہ پولیس کے آنے سے خراب ہوا ۔پولیس نے حملہ کیا،ہماری ایک رکن آسیہ امجد وینٹی لیٹر پر ہیں۔ڈپٹی اسپیکر نے بھاگ کر وزٹر گیلری سے الیکشن کروایا۔وزیٹرز گیلری میں بیٹھ کر دوست مزاری نے ووٹنگ کرائی جو غیر قانونی ہے۔آئین میں ہے کہ جب تک نیا وزیر اعلیٰ آفس میں نہیں بیٹھتا پرانا ہی معاملات دیکھے گا۔آج بھی اسمبلی کے اندر اور گیٹس پر پولیس تعینات کیے گئے ہیں۔آج بھی ڈیڑھ سو پولیس اہلکارسادہ کپڑوں میں اسمبلی کے اندر کیوں بیٹھے ہیں۔شریفوں کو گلی کوچوں میں کوئی نہیں پوچھتا تھا، ہم نے انہیں عزت دی۔ساڑھے3 سے 4سال ان شریفوں کو اسمبلی میں بٹھایا۔پانچ سال کے بعد بھی یہ شریف نہیں بدلے۔کیا عدالت اسمبلی کی کارروائی چلائے گی ؟کیا پولیس اہلکاروں نے اسمبلی معاملات سنبھالنے ہیں۔شہبازشریف اورحمزہ شہبازکے کہنےپرحملہ ہوا۔الیکشن کرانےکاحکم عدالت کاتھا،ہم سب نےمانا۔کون کہتاہےآئینی بحران ہے؟عثمان بزدارآج بھی وزیراعلیٰ ہیں۔شریفوں کااصل چہرہ قوم کےسامنےآیاہے،پولیس نےہماری خواتین ارکان پرحملہ کیا،
کیا عدالت اسمبلی کی کارروائی چلائے گی ؟پرویز الٰہی








