بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ملک میں انتخابی سرگرمیاں فوری شروع ہونے کا امکان نہیں

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ملک میں انتخابی سرگرمیاں فوری شروع ہونے کا امکان نہیں، نوازشریف کی وطن واپسی آئندہ انتخابات کے لئے مہم کا نقطہ آغاز ہوگا۔

عام انتخابات جنوری کے وسط میں ہوسکیں گے، اس کے لئے الیکشن کمیشن کو محنت شاقہ سے کام لینا ہوگا، سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے لئے عجلت میں دکھائی نہیں دے رہیں۔کمیشن کو انتخابی حد بندیوں کی حتمی تاریخ 14 دسمبر سے 30 نومبر پر لاکر جلد انتخابات کے مطالبات کو پورا کرنا ممکن ہوگا، نوے روز میں عام انتخابات کا ہونا ممکن العمل نہیں رہا۔

سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم عجلت میں شروع کرنے کا ار ادہ نہیں رکھتیں و ہطولانی مہم چلانے میں دلچسپی نہیں رکھتیں اور اس میں کئی دیگر مشکلات بھی حائل ہونگی۔ یہ جماعتیں انتخابی حلقہ بندیوں کے سوال پر دو خیموں میں بٹ چکی ہیں جبکہ رائے دہی کی عمر کو پہنچ جانے والے رائے دہندگان کو انتخابی فہرستوں میں شامل کرنے کا کام بھی شروع کردیا گیا ہے۔

لائق اعتماد سیاسی ذرائع نے جنگ/دی نیوز کو بتایا ہے کہ اپنے عوامی موقف سے قطع نظر کسی بھی سیاسی جماعت نے اس وقت نئی حلقہ بندیوں کے منصوبے کی مزاحمت نہیں کی تھی جب اس کا ڈول ڈالے جانے کا فیصلہ ہورہا تھا حالانکہ انہیں علم تھا کہ اس کے باعث عام انتخابات میں تاخیر واقع ہوگی۔

ان جماعتوں میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف دونوں ہی شامل تھیں تحریک انصاف جس نے 2019ء میں مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس میں آئندہ انتخابات کو نئی حلقہ بندیوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا تھا جب وہ اقتدار میں تھی جبکہ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سندھ کے وزیراعلیٰ نے کراچی سے وفاقی دارالحکومت آکر مشترکہ مفادات کی کونسل کے قومی اسمبلی توڑے جانے سے چندروز قبل نئی حلقہ بندیوں کی حمایت میں رائے دیکر اسے ممکن بنایا تھا۔

اگر سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ اپنے ووٹ کی تائید فراہم نہ کرتے تو حلقہ بندیوں کا فیصلہ ممکن نہیں تھا اور اس طرح عام انتخابات کا انعقاد نوے روز سے آگے لے جانا قرین ممکن نہیں تھا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان کی بعض جماعتیں اور متحدہ پاکستان نے اس مردم شماری کے بارے میں بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس میں پیپلزپارٹی بھی اپنی وجوہ سے شامل تھی۔

پیپلزپارٹی نئی حلقہ بندیوں کی مزاحمت کرنے میں تنہا تھی اب جماعت اسلامی بھی اس کی اس معاملے میں ہمدم بن گئی ہے۔ اب یہ جماعتیں قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد نوے دنوں میں عام انتخابات کے انعقاد کا تقاضا کررہی ہیں اس مقصد کے لئے بعض تنظیموں نے اعلیٰ ترین عدالت کے دروازے پر بھی دستک دی ہے اور ایوان صدر اچانک اس معاملے میں کود گیا ہے جس کے مکین کو اس کی سیاسی وابستگی نے ہراساں کرر کھا ہے۔

سیاسی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ یہ پوری مشق آخرکار رائیگاں چلی جائے گی کیونکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حلقہ بندیوں کے کام پر تیزی سے پیشرفت شروع کردی ہے ان حالات میں کمیشن کے لئے عملاً اب نوے روز کی ڈیڈ لائن پر واپس آنا ممکن العمل نہیں رہا۔