لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور کی احتساب عدالت نے ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کےکیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کا 2 ستمبر تک جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہور کی احتساب عدالت میں سرکاری ٹھیکوں میں گھپلے اور کک بیکس کے کیس میں پرویز الٰہی کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا اس موقع پر نیب کے تفتیشی افسر نے پرویزالہی سے ابتدائی تحقیقات سے متعلق رپورٹ احتساب عدالت میں جمع کرا دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرویز الٰہی تفتیش میں نیب سے تعاون نہیں کر رہے۔ پرویزالہی کے اکاؤنٹ میں 12 کروڑ روپے آئے لیکن پرویز الہی تاحال اسکے ذرائع نہیں بتا سکے، پرویزالہی کے فیملی ممبران کے اکاؤنٹس میں بھی بھاری رقوم جمع ہوئیں، تمام بھاری رقم پرویزالہی کے وزیراعلی بننے کے بعد ٹرانسفر ہوئیں، بظاہر عہدے کا ناجائز استعمال کیا گیا ہے۔
نیب کے تفتیشی افسر نے مزید بتایا کہ عظمت حیات نے بطور وعدہ معاف گواہ کک بیکس اور رشوت سے متعلق بیان دے دیا ہے۔ پرویز الہی نے قانون سے ہٹ کر کک بیکس کے لیے سکیمیں منظور کیں۔ پرویزالہی نے دیگر شریک ملزمان سے ملکر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا، مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جائے۔
پرویز الٰہی کے وکیل امجد پرویز نے پرویز الٰہی الہی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع سے متعلق پرویزالہی کی درخواست کی مخالفت کی اور دلائل میں کہا کہ پرویز الٰہی کی ابتک 10 مختلف کیسز میں گرفتاری ڈالی جاچکی ہے۔ پرویز الٰہی کیخلاف کئی نئے کیسز درج کرکے انہیں چھپا لیا گیا ہے، مونس الہی نے اگر کوئی غلط کام کیا ہے تو اس کی ذمہ داری پرویزالہی پر نہیں ڈال سکتے۔
وکیل امجد پرویز نے مزید کہا کہ مونس الٰہی خود مختار ہیں اور اپنے کاموں میں مکمل آزاد ہیں اعلی عدلیہ کے فیصلے بھی یہی کہتے ہیں کہ خودمختار بچوں کا کاموں کا والد ذمہ دار نہیں ہے، پراسکیوشن نے بڑے بڑے الزامات عائد کیے ہیں، پراسکیوشن سے کہیں کہ وہ ان الزامات کی دستاویزات بھی فراہم کرے، وکیل نے استدعا کی کہ پرویزالٰہی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد کی جائے۔
دوران سماعت عدالتی اجازت سے پرویز الٰہی نے روسٹرم پر عدالت کو بتایا کہ فیملی سے ملاقات باقاعدگی سے نہیں کرائی جا رہی، میرے ٹیسٹ ہونے تھے وہ نہیں کرائے گئے، میری آنکھوں کا چیک اپ ہونا تھا جو نہیں کرایا گیا، مجھے فزیو تھراپی کی ضرورت تھی وہ بھی نہیں کرائی گئی۔ اللہ کی عدالت کے بعد آپ کی عدالت ہے آپ سخت آرڈر جاری کریں۔ عدالت نے چوہدری پرویز الٰہی کے جسمانی ریمانڈ میں 2 ستمبر تک توسیع کردی۔









