لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی بازیابی اور پولیس افسران کیخلاف توہین عدالت کی درخواستوں پر عدالت نے توہین عدالت کے مرتکب پولیس افسران کو پیش ہونے کیلئے 2بجے تک کی مہلت دیدی،عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو پولیس افسران کے دفاع سے روکتے ہوئے کہاکہ عدالت جواب آنے کے بعد مناسب فیصلہ کرے گی،پراسیکیوٹر کا کام وکالت کرنا نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی تک معاونت کرنا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی بازیابی اور پولیس افسران کیخلاف توہین عدالت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،عدالت نے توہین عدالت کے مرتکب پولیس افسران کو پیش ہونے کیلئے 2بجے تک کی مہلت دیدی،عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو پولیس افسران کے دفاع سے بھی روک دیا۔
عدالت نے کہاہ جب آپ کو پراسیکیوٹر مقرر کیا جائے گا تب آپ بتائیے گا کہ توہین کا جرم بنتا ہے یا نہیں،آئی جی پنجاب سمیت دیگر سے بھی 2بجے جواب طلب کر لیا گیا۔
عدالت نے کہاکہ کوئی پیش نہیں ہوتا تو عدم پیشی کی جو بھی جوہات ہیں لکھ کر آگاہ کیاجائے،جسٹس امجد رفیق نے کہاکہ عدالت جواب آنے کے بعد مناسب فیصلہ کرے گی،پراسیکیوٹر کا کام وکالت کرنا نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی تک معاونت کرنا ہے عدالت نے سماعت دو بجے تک ملتو ی کر دی۔









